Home » Gujranwala » اجرت مانگنے پر آڑھتیوں نے غریب محنت کش کو فائرنگ

اجرت مانگنے پر آڑھتیوں نے غریب محنت کش کو فائرنگ

حافظ آباد:اجرت مانگنے پر آڑھتیوںنے غریب محنت کش کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔پولیس کی ملی بھگت سے مقتول اور رشتہ داروں کے خلاف چوری کا مقدمہ درج۔مقدمہ درج کروانے جانے والے مقتول کے بھائی پر ٹھڈوں ،مکوں سے تشدد دھکے مار کر تھانہ سے نکال دیا۔مقتول کی بوڑھی ماں ہوش وحواس کھو بیٹھی، انصاف نہ ملنے پر ڈی پی او آفس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان تفصیلات کے مطابق وجھواں کا رہائشی بشیر احمد اپنے بھائی اور چچازاد منشاء کے ہمراہ موضع گڑھی وہاب میں منیراحمد ،نورمحمد پسران احمد خاں گورایہ کی آڑھت پر پلے داری(محنت مزدوری) کرتے کرتاتھا ۔جنہیں ہفتہ وار ادائیگی کی جاتی تھی۔ جمعرات کی شام بااثر آڑھتیوں نے تینوں کو روک لیا کہ تمہیں مزدوری اداکرتے ہیں رات 12بجے تک ادائیگی نہ کی گئی اور وہ آڑھت پر ہی سوگئے۔صبح فجر کے بعد انہوں نے کہیں ضروی کا م جانا ہے اور جانے سے پہلے انہیں اجرت دے دیں گے۔ علی الصبح آڑھتی نورمحمد اور منیر احمد اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ آڑھت پر آئے تو ان غریب محنت کشوں نے اجرت کا مطالبہ کیا جس پر آڑھتی مشتعل ہوگیا اور ظفراقبال نے پسٹل نکال کر ہوائی فائرنگ کردیا۔ اسی اثناء میں نورمحمد اندر سے بندوق اٹھا لایا مقتول بشیر احمدخوف کے مارے بھاگ اٹھا ۔نور محمد نے بندوق سے سیدھا فائر کردیا جس کے لگنے سے محنت کش موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ملزموں نے اپنا آپ بچانے کیلئے پولیس کے ساتھ ملی بھگت کرکے اس واقع کو چوری کا رنگ دے دیا۔اور مقتول کی نعش کے پاس گندم کا توڑا رکھ دیا ۔ مقتول کے بھائی کے مطابق ڈی ایس پی طارق وڑائچ۔ اور انسپکٹر ظفرشاہ نے اس قتل کی بھاری رشوت وصول کی ہے۔اور جب مقتول کے بھائی سیف اللہ اپنے کز ن کے ہمراہ قتل کا مقدمہ درج کروانے تھانہ کسیسے پہنچا تو انسپکٹر انویسٹی گیشن ظفر شاہ اور دیگر اہلکاروں نے دونوں پر ٹھڈوں ، مکوں کی بارش کردی اور گالیاں اور دھکے دے کر تھانہ سے نکال دیا۔ جب اس سلسلہ میں انچارج تھانہ ظفرگوندل سے رابطہ کیا تو انہوںنے اپنے موبائل فون نمبر 0321.7470460 اور 3007567071پر کال وصول نہیں کی۔ جبکہ ڈی ایس پی طارق وڑائچ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تشددکی بات غلط ہے ۔پولیس نے آڑھتیوں کا موقف سننے کے بعد مقدمہ درج کیا ہے۔پولیس کی آڑھتیوں سے ملی بھگت کیسے ؟