Home » Article » ٹی بی سو فیصد قابل علاج مرض ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:معظم علی گل

ٹی بی سو فیصد قابل علاج مرض ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:معظم علی گل

چند روز قبل دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا گیا اس دن کی نسبت سے پاکستان بھر میںبھی انسانی حقوق کے عالمی دن پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے مختلف تقریبات کا اہتمام کیاکامونکی میںایک مقامی ہوٹل میں ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کو دی گلوبل فنڈ اور مسیحی کورکی شراکت سے مقامی صحافی برادری کیلئے ایک تربیتی کورس کا اہتمام کیا گیا یقیناً یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ تحصیل اور ٹاؤن کی سطح پر بھی ورکشاپ کا انعقاد ہونا چاہے تاکہ انسانیت کی فلاح بہبود کیلئے اچھا کام ہوسکے اس سیمینار کا بنیادی مقصد ٹی بی جیسی مہلک بیماری کے متعلق لوگوں کو آگاہ کرنا تھا تقریب جو کہ نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیاگیا بعد میں تمام صحافیوں کا میزبانوں سے تعارف کروایاتعارفی سلسلہ کے بعد جاوید اقبال صاحب کمیونٹی موبلیز نے صحافیوں کی اس تربیتی کے بارے میں مکمل بریفنگ دی تاکہ اس ورکشاپ کا مقصد دوسرے دور دراز علاقوں تک ٹی بی کی مہلک بیماری کے مطلق لوگوں میں آگاہی پیدا کی جاسکے اور ہم سب ملکر اس وطن عزیز سے ٹی بی جیسی مہلک بیماری کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے کام کریں مس عطیہ ناز نے بریف کرتے ہوئے کہا کہ ٹی بی جراثیم سے پھیلنے والی چھوت کی بیماری ہے اور اس کے جراثیم پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں اس جراثیم سے جسم کے دوسرے حصے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں جب ٹی بی کا مریض کھانستا،چھینکتا یاتھوکتا ہے تو یہ جراثیم ہوا کے ذریعے تندورست انسان میں منتقل ہو جاتے ہیں اس لیے ٹی بی کے مریض کو چاہیے کہ کھانستے یا چھینکتے منہ پر رومال رکھے اور جگہ جگہ تھوکنے سے پرہیز کرے ٹی بی کے مریض کی چند ابتدائی اور مخصوص نشانیاں ہیں مریض کا تین ہفتے یا اس سے زیادہ کھانسی کا شکار رہتا ہے اور مریض ہلکا بخار محسوس کرتا ہے اور اُس کو پسینہ بھی آتا ہے اور اس کے علاوہ بھوک کا نہ لگنا اور وزن میں نمایاں کمی بلغم میں خون آنا یہ ٹی بی کے مریض کی چند ابتدائی علامات میں شرکاء محفل کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا کہ ٹی بی کوئی موروثی بیماری نہیں پہلے اس کا علاج بہت لمبا ہوتا تھا لیکن اب صرف 8ماہ کے علاج سے ہی مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو جاتات ہے بلکہ علاج کے دوران ماں اپنے بچے کو اپنا دودھ بھی پلا سکتی ہے ٹی بی کے مریض کو ہر ماہ باقاعدگی سے معائنہ کروانا چاہیے ٹی بی کی ادویات استعمال کرنے سے مریض تقریباً ڈھیڑ ماہ میں ہی کافی حد تک اپنے آپ میں بہتری محسوس کرتا ہے اس بیماری میںمبتلا افراد کو اپنا علاج ادھورا ہر گز نہیں چھوڑنا چاہیے ایسا کرنے سے مرض مزید پیچیدہ اور خطر ناک صورت اختیار کرسکتا ہے ٹی بی کے مرض کی دوائیں باآسانی مرکز صحت، ٹی بی سینٹر یا قریبی ہسپتال سے مفت ملتی ہے ملک بھر میں ٹی بی کی مریضوں کو ادویات مفت فراہم کی جاتی ہے ہر ہسپتال میں ٹی بی کے مریضوں کیلئے الگ شعبہ قائم کیاگیا ہے اور معالج کی زیر نگرانی ٹی بی کے مریض کو ادویات استعمال کروائی جاتی ہے ہر تیسرا آدمی اس مہملک مرض میںمبتلا ہو سکتا ہے اگر کوئی مریض بروقت اپنا علاج نہیں کرواتا تو 10تندورست آدمیوں میں سے ایک آدمی کو اس بیماری میں مبتلا کرتا ہے اس سیمینار میں شریک تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال کامونکی کے شعبہ ٹی بی کے انچارج نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میںاس خطر ناک مرض کا باقاعدگی شعبہ قائم کیا گیا ہے جہاں پر ٹی بی مریضوں کو 41لیڈی ہیلتھ ورکر کی زیر نگرانی ٹی بی ادویات استعمال کروائی جاتی ہے اور یہ سلسلہ تحصیل بھر کے 37مراکز صحت پر بھی جاری ہے سال 2009ء میں یہاں پر 544مریضوں کو ٹی بی کا کورس شروع کروایا گیا جس کی کامیابی کا تناسب سو فیصد ہے ٹی بی کا مریض زیادہ غریب ممالک میں ہوتے ہیں اوراس حوالے سے پوری دنیا میں پاکستان 8نمبر پر ہے ہمارے برادر دوست ملک چین میں ٹی بی کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے لیکن وہاں ٹی بی کے مریض کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ترقی یافتہ ممالک کی نسبت غریب ممالک میں پچییدہ امراض کی شرع زیادہ ہے کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہر انسان شعوری طور پر بیدار ہے اور اُن لوگوں میں جینے کا سلیقہ ہے ہر آدمی اپنے فرائض سے پوری طرح آگاہ ہے اپنا ہر کام اپنے ہاتھوں سے کرنے کو ترجیح دیتے ہیںلوگوں کو ہر کھانے پینے کی چیز صحت کے عین اصول پر فرارہم کی جاتی ہے بنیادی ضروریات بلا تفریق ہر انسان کو میسر ہیں ناقص اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت ایک سنگین جرم ہے انسان کوبچانا اُن لوگوں کے نزدیک عبادت کا درجہ رکھتا ہے اور انسانی زندگی کے ضیاع کو ایک المیہ تصور کیا جاتا ہے بدقسمتی سے پاکستان میں غریب پسماندگی بنیادی و طبی سہولیات کا فقدان تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشرتی رویوں کا درست نہ ہونا ان جان لیوا مہلک امراض کی وجہ ہے ان امراض کی روک تھام کیلئے جس میں دن بدن خطر ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ وہاں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد پر لازم ہے کہ وہ ان امراض کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں۔ پروفیسر اور ٹیچرز حضرات کو چاہیے کہ سکولوں و کالجوں کی سطح پر ایسی جان لیوا بیماری کے مطابق طالب علموں کو آگاہ کریں تاکہ کل کو ایک مثالی پاکستان بنانے والے یہ معمار اپنے گھروں میں ٹی بی یا کسی دوسری بیماری کے شکار افراد کو اس بارے میں آگاہ کریں اور اپنے عزیزوں کو ہسپتالوں تک بھیجے مساجد و تدریسی مدراس میں بھی معلم یا امام مسجد کی یہ ذمہ دار بنتی ہے کہ وہ اپنے خطاب میں لوگوں کو ان بیماروں کے علاج معالجہ کی ترغیب دیں کیونکہ اس بیماری میں مبتلا انسان بھی اس معاشرے کا حصہ ہے ایسے مریضوں سے ہم کونفرت نہیں کرنے چاہیے بلکہ ایسے مریض آپ کو توجہ اور ہمدردی کے خواہ ہیں ان کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنائیں اور اُن کی حوصلہ افزائی سے کافی حد تک مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ہمارا مذہب بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کسی دوسرے مسلمان سے ہر گز نفرت نہ کرو بلکہ اُن کے دکھ درد میں شرکت کرو ہمیںسرور کائنات ﷺ کی حیات مبارک سے درس ملتا ہے کہ سرکار خود جا کر بیماروں کی عیادت کرتے اور اُن کی صحت یابی کیلئے دعا فرماتے تھے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب کو ایسی این جی اوز اور میڈیکل ٹیمز کیساتھ ملکر کام کرنا چاہیے جو انسانی فلاح بہبود کیلئے سرگرم خدمت ہیں اور انسانیت کے فروغ کیلئے دن رات کوشاں ہیں۔