Home » Article » میلاد رسولؐ کی جو اصل روح ہے ہم اُس بھول چکےمیلاد رسولؐ کی جو اصل روح ہے ہم اُس بھول چکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:علامہ پیر محمد اشرف شاکر ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:علامہ پیر محمد اشرف شاکر

میلاد رسولؐ کی جو اصل روح ہے ہم اُس بھول چکےمیلاد رسولؐ کی جو اصل روح ہے ہم اُس بھول چکے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:علامہ پیر محمد اشرف شاکر ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:علامہ پیر محمد اشرف شاکر

\سب سے بہترین نظام وہ ہے جو پیغمبرؐ اسلام نے ہمیں صدیوں قبل دے دیا تھا اور وہ مکمل ضابطہ حیات ہے آج مسلمان نیچے سے لیکر اعلیٰ سطح پر مصائب وآلام میں پھنسے ہوئے ہیں۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے شریعت اسلامیہ سے روح گردانی کی ہمارے ایمان سست ہونے کے علاوہ ہم مفادو لالچ کی دنیا میں کھو چکے ہیں۔ نفسا نفسی کا عالم ہے اور اپنے خالق حقیقی کی قدرت پر یقین کامل نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ہم پستی کی طرف جا رہے ہیں۔بہت مشہور بات ہے کہ ایک مولانا صاحب نے یقین کامل کے موضع پر خطاب کیا کہ جو شخص بسم اللہ شریف پڑھ کر دریا میں چھلانگ لگا دے تو بسم اللہ کی برکت سے ڈوبنے کے بجائے کنارے پر سلامتی سے پہنچ جائے گا۔ ایک دیہاتی نے علامہ صاحب کی بات کو صدق دل سے اپنے اوپر وارد کر لیا وہ ہر روز بسم اللہ پڑھ کر دریا میں چھلانگ لگاتا اور دوسرے کنارے چلا جاتا ایک عرصے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک روز دیہاتی نے مریدین کی موجودگی میں مولانا سے فرمایاکہ آپ نے جو بسم اللہ کا وظیفہ بتایا تھا۔ اس میں بہت برکت ہے کہ میں ہر روز یہ وظیفہ پڑھ کر دریا عبور کرتا ہوں لوگوں نے کہا علامہ صاحب آ پ بھی یہ تجربہ کریں بسم اللہ پڑھ کر چھلانگ لگائے۔ عوام نے انہیں مجبور کیا تو حضرت صاحب نے فرمایا پہلے ایک رسی منگوا کر میری کمر کے ساتھ باندھ دیں اگر میں ڈوبنے لگا تو فوراً رسی کھینچ لینا یہ ہے ہمارا اسم اللہ پر ایمان ۔ اگر ہم تبدیلی چاہتے ہیں تو پھر ہر شخص اپنے آپ کو سنوارنے کی کوشش کریں اور علما وصوفیا کے علاوہ مذہبی رہنماؤں کو بھی اپنی اصلاح کرنی چاہیے،جتنا خوبصورت مذہب اسلام ہے اس سے بڑھ کر حسین اس کا نظام ہے۔سرکار دو عالمؐ نے جو ہمیں سنہری اصولوں کا چارٹ بنا کر دیا تھا ہم اس کے برعکس چل رہے ہیں(محمدی چارٹ) تمام برائیوں کی نفی کرتا ہے۔تقریباً پورے ملک میں جشن میلاد منایا گیا کیا کسی علامہ صاحب نے چارٹ رسولؐ پڑھ کر سامعین کو سنایا،یا اس پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔ میلاد نبیؐ کا مقصد یہ ہے کہ جو آقا دو جہاں نے ہمیں نظام دیا تھا کم ازکم اس کے ایک پہلو پر عمل کر کے دکھائیں اگر ہم صرف جھوٹ کو ترک کر دیں تو بہت سی پریشانیوں سے بچ سکتے ہیں آج کل تو اکثر میلادشریف صرف چندہ اکٹھا کر نے کیلئے مناتے ہیں کچھ نذرانہ اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں اور کچھ نعت خواہوں کی نظر کردیتے ہیں۔میلاد رسولؐ کی جو اصل روح ہے ہم اس کو بھول چکے ہیں گزشتہ دنوں میں عالم باعمل مولانا محمد رفیق احمد مجددی صاحب جامع مسجد میں میلاد شریف کی خوشی کے سلسلہ میں محفل قرات تھی راقم کو بھی حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ خاکسار نے دیکھا کہ کچھ جوان بلیک اور کمانڈوز وردیاں پہنچ کر کھڑے ہیں میں نے اپنا جوتا جو پہلی بار اپنے بھائی کی شادی پر قیمتی خریدا تھا مسجد کے اندر باحفاظت رکھنے کی کوشش کی چنانچہ بلیک وری والے گارڈ نے کہا کہ آپ جوتا یہاں رکھ دیں میں نے عرض کی جوتا میرا بہت قیمتی ہے کہنے لگا ہم کس لئے کھڑے ہیں۔اس وقت میں ان کے فرمان کا اصل مقصد نہ سمجھ سکا کہ(یہ حفاظت کیلئے کھڑے ہیں یا چرانے کیلئے) محفل کے اختتام پر جوتا غیب ہو گیا میرے استفسار پر گارڈ نے کہا کہ ہم جوتوں کے رکھوالے نہیں بلکہ عوام کی حفاظت کیلئے کھڑے ہیں۔قارئین جو جوتوں کی حفاظت نہیں کرسکتے انہوں نے لوگوں کی حفاظت کیا کرنی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے گارڈ جو جوتی چور کو نہیں پکڑ سکتے شائد دہشت گرد کو پکڑ لیں۔ کتنی شرم کی بات مسلمانوں کیلئے ہے ایک عبادت کرنے کیلئے آتا ہے دوسرا مسلمان جوتا چرانے کیلئے کھڑا ہوتا ہے۔اکثر دیکھنے میں آیا ہے ایک عالم سٹیج پر میلاد پاک پڑھ رہا ہوتا ہے کچھ نادان نیچے سے پیسوں کی پھٹی لگا رہے ہوتے ہیں جب تک ہر شعبے کا آدمی اپنی اصلاح کی کوشش نہیں کریگا اس وقت تک کوئی تبدیلی نہیں آسکتی کچھ مذہبی راہنما نظام مصطفےؐ کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔نظام رسولؐ تو موجود ہے اب عمل کرنے کی ضرورت ہے اگر کوئی شخص سچ بولنا شروع کر دیں دھاڑی مبارک رکھ لیں،سود خوری بند کردیں،لوٹ مار چھوڑ کردینداری اختیار کرے،پانچ وقت کا نمازی بن جائے، مخلوق خدا کے ساتھ پھلا کرے،حقوق العباد پر عمل پیرا ہو جائے۔خدا پریقین کامل کی معراج کو پہنچ جائے دیگر جتنے بھی شریعت اسلامیہ کے اصول اپنانے پر کسی ادارے یا حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔اگر ہم مسلمان میلادالنبیؐ کی حقیقت کو پہچاننے کے علاوہ جو آقا ؐدو جہاں نے نظام بنا کر دیا تھا تو اس پر عمل کریں وہ دن دور نہیں کہ کامیابیاں مسلمانوں کے قدم نہ چومے اس لئے ہماری بقا رسولؐ اللہ کی پیروی میں ہے۔