Home » Article » قومی راہنماکرپشن محکمہ پولیس کی جڑوں سے صاف کر سکتے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تحریر:بدر سلیم بٹ

قومی راہنماکرپشن محکمہ پولیس کی جڑوں سے صاف کر سکتے ہیں؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔تحریر:بدر سلیم بٹ

کرپشن رشوت سفارش جیسی لفتیں محکمہ پولیس کی اقدار بن گئی ہیں رشوت کی ابتداء دراصل پولیس کی تربیت کے دوران ٹریننگ سنٹر سے ہو جاتی ہے۔ایک کانسٹیبل نے بتایا کہ ٹریننگ سنٹرز میں انسٹریکٹر(استاد لوگ) پریڈ گراونڈ میں ذلیل کرنا شروع کر تے ہیں جہاں مختلف نوعیت کی جسمانی سزائیں دیتے ہیں جب ٹرینی تنگ آجاتے ہیں تو ان استادوں کے ٹاؤٹ رابطہ کرتے ہیں اور پوری پلاٹون سے استادوں کیلئے فی جوان 500سے 1000روپے تک دیتا ہے اور اگلے روز سے نرمی شروع ہو جاتی ہے اور استاد لوگ دوستانہ رویہ اپنا لیتے ہیں اور پھر پاسنگ آؤٹ پریڈ تک ہر ماہ منتھلی کی شکل میں یہ ٹرینی رشوت ادا کرتے ہیں یہاں سے کرپشن کی ابتدا ہوتی ہے ابھی یہاں پر ختم نہیں ہوتا دوران تربیت چھٹی نہیں ملتی لیکن جتنی چھٹی ضرورت ہو چند روپے رشوت میں رخصت کا پروانہ مل جاتا ہے100-200روپیہ یومیہ 5دن تک یہ چھٹی مل جاتی ہے یہ سب کچھ اتنا شرمناک ہے کہ پولیس میں بھرتی ہونیوالا نو آموز اس رشوت کلچر کو آموزش سمجھ کر اپنی تربیت کی شروعات تصور کر لیتا ہے۔ اس سے قبل محکمہ پولیس میں بھرتی کیلئے 50ہزار سے ایک لاکھ روپے خرچ آتا ہے جو پولیس دفاتر کے کلرک بادشاہ سیٹو گرافر سپرنٹنڈنٹ اور دیگر افسران وصول کرتے ہیں اور اکثر پیشتر لوگ بھرتی ہو جاتے ہیں اکثر کی پولیس کے افسروں سے مراسم ہوتے ہیں جو بھرتی کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں بھرتی کے بعد ضلعی ہسپتالوں میں میڈیکل فٹنس سرٹیفکیٹ کیلئے 1000روپے سے 2000روپے تک وصول کیے جاتے ہیں یہ سب کرپشن کو پروان چڑھانے کیلئے پولیس کی نرسری سے تیار ہونے والے کانسٹیبل اے ایس آئی کی ابتدا ہے ہاں البتہ بعض لوگ میرٹ پر بھرتی ہو جاتے ہیں لیکن دوران تربیت ذلیل ہوتے ہیں اگر وہ اس پولیس کلچر کاحصہ نہ بنیں تو وہ پوری سروس ذلیل ہوتے رہتے ہیں انہیں سکھ کا سانس نہیںلینے دیا جاتا کبھی کہاں سے کہیںتبادلہ کبھی کسی کورس پر کبھی کسی ایسی ڈیوٹی سرجہاں پریشاں ہی ہوں یا گھر سے دور تعیناتی کر دی جاتی ہے تاکہ ایمانداری کی سزادی جا سکے۔تھانے کرپشن کی بنیادی اکائیاں ہیں تھانوں میں محررران نائب محران کے درمیان نوٹ اکٹھا کرنے کا مقابلہ رہتا ہے جو آپس میں بنیادی اختلاف کا ذریعہ بنتا ہے تھانہ کے گیٹ پر محران اس کانسٹیبل کو سنتری کھڑا کرتے ہیں جو انہیں چائے پانی سگریٹ کا خرچہ 100-200روپے دے اور جو سنتری 100-200روپیہ محرر کو یومیہ نہ دے اس کی گیٹ ڈیوٹی جلدی ختم ہو جاتی ہے۔سنتری ڈیوٹی گیٹ اس ڈیوٹی پر کھڑا ہونیوالا کانسٹیبل سنتری حوالات میں بند افراد کے ورچہ سے ملاقات کرنے کھانا دینے سگریٹ دینے موبائل فون پر بات کروانے کیلئے 100-200روپیہ فی حوالاتی لے کر اپنی جیب گرم کر لیتا ہے جو یہ سب کچھ نہ دے اس کی ملاقات نہیںہوتی اور ہر 4گھنٹہ بعد تبدیل ہونے والا اپنا حصہ ڈیوٹی کے حساب سے وصول کرتا ہے۔محرران محرر حضرات روز نامچہ میں کسی گمشدہ کاغذ وغیرہ کی رپٹ درج کرنے اور پھر نقل رپٹ کیلئے 100-200روپے وصول کرتے ہیں مار یبٹ کی رپٹ درج کرنے کیلئے 1000-2000یا 500روپے وصول کیے جاتے ہیں وگرنہ ان کا نقشہ مغروبی ہسپتال بھجوانے کیلئے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔اگر ایف آئی آر درج ہو جائے تو نقل ایف آئی آر کی کاپی کیلئے 100-200روپے لیے جاتے ہیں اگر ایسا نہ ہو تو اسے عدالت کا راستہ دکھایا جاتا ہے کہ نقل ایف آئی آر علاقہ مجسٹریٹ سے ملے گی ہم ایسا نہیں کرسکتے۔مقدمات کے اندراج میں تاخیری حربے،اکثر چوری،ڈکیتی، راہزنی کی ایف آئی آر پولیس والے درج ہی نہیں کرتے اگر کوئی سائل آجائے تو کہتے ہیں چوری ڈکیتی راہزنی ہوئی ہی نہیں سائل جھوٹ بولتا ہے چوری تو تمہارے گھر میں ہے ہم گھر سے ہی تفتیش کریںگے اور یوں ایف آئی آر درج نہیںہوتی اگر ایف آئی آر درج ہو جائے تو چوروں،ڈاکوؤں کو اپنی جائیداد بیچ کر تھانیداروں کو راضی کرنا پڑتا ہے وگرنہ حوالات میںمہیتوں پڑے رہتے ہیں نہ تو گرفتاری روزنامچہ میں درج ہوتی ہے۔نہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں یوںتفتیشی آفیسر اپنے ایس ایچ او کو اور ایس ایچ او اپنے ایس ڈی پی اور ڈی ایس پی کو اعتماد میںلیے رکھتے ہیںاگر ملزم ہائی کورٹ چلا جائے اور بیلف لے آئے تو ملزمان کو کسی گھر ٹاؤٹ ہاؤس میں منتقل کیا جاتا ہے جو خطرہ ٹلنے کے بعد واپس آجاتے ہیں اور پھر ڈبل رقم کے عوض جرمانہ برداشت کرتے ہیں اور چھترول علیحدہ کی جاتی ہے مقدمات کی تفتیش کے دوران پولیس اپنی من مرضی کرتی ہے ملزمان کو وی آئی پی پرٹوکول دیا جاتا ہے جس کی وہ بھاری فیس ادا کرتے ہیں محرران تھانہ دن بھراپنے کانسٹیبلوں اور سائلوں کی کھال اتارتے ہیں اور آپس میں روتے ہیں دفتر کے فلا ان افسرکو موبائل کا کارڈ ری چارج کروایا فلاں کو ڈونکی پمپ ٹھیک کروائی فلاں ایس ڈی پی او کے گھر سبزی،مرغی،گوشت،بوتلوں کے ڈالے بھجوائے کچھ نہیں بچتا کا آپس میں رونا روتے نظر آتے ہیں۔دفاتر کے اہلکاران محرران کو فون پر فرمائش کرتے ہیں اگر یہ فٹیک پوری نہ کریں تو پھر تبادلہ اور شامت آئی رہتی ہے محرر تھانہ اکثر بیشتر اپنے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی فٹیک پوری کرتے ہیں شام کو ایس ڈی پی او،ڈی ایس پی تھانوں پر آجاتے ہیں اور روسٹ مرغ چرغے بوتلیں کھاتے پیتے ہیں2/3مرتبہ چائے لوازمات کے ساتھ پیتے ہیں اور اپنے ملنے والوں کو تھانے کا وقت دیتے ہیں یوں محرران کی کمائی ان کی خدمت کی نظر ہو جاتی ہے افسران بالا کے ڈرائیور،آپریٹر،گن مین بھی تفتیشی افسروں،محرروں ایس ایچ اوحضرات سے حسب ضرورت روپیہ بھتہ آتے جاتے ملا خطہ پر وصول کرتے ہیں۔ایس ایس پی صاحب کا پی اے ریڈر علیحدہ جیب خالی کر لیتے ہیں جو تفتیشی آفیسر ایس ایچ او ان کی خدمت نہ کرے انہیں شوکاز نوٹس جواب طلبی کے پروانے وصول ہوتے رہتے ہیں اور پھر ڈبل رقم دے کر جان بخشی جاتی ہے سمجھ دار پولیس افسران ان دفتر والوں کو منتھلی دیئے رکھتے ہیں جس سے وہ سکون سے رہتے ہیں مقدمہ خارج ہونے کی صورت میںتفتیشی آفیسر ملزم سے بھاری رقم وصول کرتا ہے اور پھر بے گناہ کرنے کیلئے تصدیق تفتیشی کیلئے ایس ڈی پی او صاحب کے پیش کرتا ہے یہاں صاحب لوگ (گنوں) کھاتے ہیں اور تصدیق تفتیشی کا ایک مرحلہ ختم ہو جاتا ہے اور پھر اختتامی کی نقل لینے کیلئے مزید رشوت ادا کرتے ہیں دفاتر کے اہلکار علیحدہ لوٹ مار کر کے اپنے لوگوں کا استحصال کرتے ہیں جب کسی مقدمہ کے ملزم کی گرفتاری کیلئے پولیس کی ریڈنگ پارٹی تھانہ سے روانہ ہونے لگتی ہے تو سائل سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی گاڑی ہے جس میںملازم بیٹھ کر ملزم کو گرفتار کر کہ لائے یا تو گاڑی لے آتے ورنہ سرکاری گاڑی میںتیل ڈلوائیں اور روانہ ہونے سے قبل تفتیشی افسر اپنا انعام اور ہمراہ ملازمان بمہ ڈرائیور اپنا انعام دستی وصول کرتے ہیں اگر کوئی سائل انعام وغیرہ نہ دے تو اس کے ساتھ جانے کیلئے کوئی تیار نہیںہوتا اور یہی حال 15والوں کا ہے جب کوئی ملزم گرفتار ہو کر تھانہ آتا ہے تو اسکی جامعہ تلاشی لی جاتی ہے یا اسے گرفتار کرتے وقت بھی تلاشی لے لی جاتی ہے اور سو میں سے دس فیصدملزمان کو بھی جامعہ تلاشی والی رقم نہیں ملتی۔دفتر کے دیگر اہلکار ریڈرزحضرات ایس ایچ او اور محرروں کو دباتے ہیں کہ تمہارے فگرز انسپکشن کے مطابق نہیں یوں ہر ماہ ایس ایچ او محرر اس برانچ کو بھاری رقم نہیں ملتی۔ دفتر کے دیگر اہلکار ریڈز حضرات ایس ایچ او اور محرروں کو دباتے ہیں کہ تمہارے فگرز انسپکشن کے مطابق نہیں یوں ہر ماہ ایس ایچ او محرر اس برانچ کو بھاری رقم ادا کرتے ہیں عدالتوں میں نائب کورٹ جو پولیس کے سپاہی حوالدار ہوتے ہیں عدالتی اہلکاروں کے ساتھ مل کر اپنا حصہ روزانہ کے حساب سے وصول کرتے ہیں یہاں ٹرانسفر پوسٹنگ کانسٹیبل سے آخر تک بغیر پیسوں کے نہیںہوتی ہیڈ کوارٹر پر اوایس آئی برانچ میں بھی سٹاک ایکسچینج کی طرز پر کاروبار چلتا ہے یہاں سپاہی حوالدار سے تبادلہ کرنے کے پیسے لیے جاتے ہیں تھانے سے تھانہ5000روپے تھانہ سے گارڈمن پسند 3000روپے گارڈ سے بدستور گارڈ300روپے جبکہ گھر کے نزدیک تعیناتی کے 5000روپے وصول ہوتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتو کانسٹیبلوں کو خوب ذلیل کر دیا جاتا ہے یوں محکمہ پولیس میں رشوت جیسی لعنت سریت کر چکی ہے اس کی درستگی یا اصلاح ممکن نظر نہیں آتی پولیس کلچر کو درست کرنے کا دعویٰ کرنے والے کسی تصوراتی دنیا کے مسافر ہیں کرپشن پولیس کی جڑوں میں شامل ہے اگر جڑیں کاٹیں گے تو پورا محکمہ ختم ہو جائے گا اس سے انکار نہیں کہ یہ لوگ دن رات جاگتے ہیں اپنے گھروں سے دور اپنی جانیں جوکھوں میں ڈال کر اپنے فرض کی انجام دیہی کرتے ہیں اور شہادت سے بھی سرفرارز ہوتے ہیں محکمہ جیتے جی ان پولیس ملازمین کو ذلیل کرنے دھکے دینے برباد کرنے ذہنی ٹارچر دینے میںکوئی کسر نہیں چھوڑتا بیشتر ملازمین ریٹائر ہونے کی عمر میں بلڈ پریشر،شوگر،عارفہ دل، فالج جیسے موزی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں ان کی اولاد سرپرستوں سے گھروں سے دوری پر آوارہ ہو جاتی ہے گھر کا ماحول تباہ ہو جاتا ہے کیا وزیراعلیٰ پنجاب جناب میاں شہباز شریف اوردیگر ارباب اعلیٰ کرپشن محکمہ پولیس کی جڑوں سے صاف کر سکیں گے سنگین جرائم کا خاتمہ اور امن وامان برقرار رکھنے سمیت سادہ لوح عوام کے جان ومال کا تحفظ ممکن ہو سکے گا لوگوں کو فوری اور سستا انصاف میستر ہونے کے ساتھ ساتھ سفارش سسٹم ختم ہو سکے گا۔یہ وہ سوالات ہیں جو کہ ہر خاص و عام کی زبان زد ہیں قوی امید ہے کہ موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب اپنے سابق ادوار کی قابل ستائش نمایاں عمدہ کارکردگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے مستقبل میں اس بارے خصوصی توجہ مبذول کر کے ہمدردانہ غور فرمائیں اور عوام کو ان سنگین مشکلات سے نجات دلانے میں نمایاں ترین رول ادا کریںگے شاہد کوئی مسیحاہی اس محکمہ کی اصلاح کر سکے امید تو نہیں پر شاید۔