Home » Article » عوامی ڈی آئی جی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

عوامی ڈی آئی جی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

گذشتہ روز پولیس مقابلے میں ہلاک ہونیوالے 20 لاکھ سر کی قیمت والے خطرناک بھتہ خور آصف عرف وڈو اور ہاشم عرف کالو کی ہلاکت کے بعد گوجرانوالہ پولیس نے انہیں ،،نشان عبرت،، بناتے ہوئے ان کی نعشوں کو گاڑی میں رکھ کر پورے شہر کا چکر لگایا۔ اس موقع پر شہریوں نے پولیس کو خراج تحسین پیش کیا اور پولیس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کئی من پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔عوام کے جان ومال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے مگر کسی بھی ذمہ داری کے ثمرات اس صورت میں ملتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار عملی نمونہ ذمہ داری پیش کریں جس سے ماضی میں پولیس نے ہمیشہ تساہل برتا مگر ہر ظلمت شب کا سویرا ضرور ہوتاہے۔ ہمارے ہاں ظلم پہ مبنی نظام پولیس میں امید کی کرن اس وقت پیدا ہوئی جب ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے اپنے عہدے کا چارج لیا اورپھرانہوں نے بہت جلد ظلمت شب کے بعد سویرا ہمارا مقدر بنا دیا۔ ان کی قیادت میں عوام کے جان ومال کے تحفط کے لئے پولیس کے جوانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے اور اہل گوجرانوالہ کے لئے ذوالفقاراحمد چیمہ نعمت خداوندی ہیں لوگو ںنے انہیں وہ عزت پیار اور محبت دی ہے جو کسی پولیس آفیسرکے حصے میں نہیں آئی۔ کیونکہ ہمارے ہاں مروجہ سسٹم میں پولیس اور پیار دو متضاد چیزیں ہیں دونوں کویکجا کرنا شیر اور بکری کو ایک گھاٹ پر پانی پلاناہے۔ شہری دل وجان سے ذوالفقار احمد چیمہ کوپسند کرتے ہیں اور شہریو ںکے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین بھی ان کی خدمات کے معترف ہیں کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات محمد اشرف کائرہ نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ مختلف وزراء اراکین اسمبلی نے ان کی خدمات کی تعریف کی اور گذشتہ دنوں وزیر اعلی پنجاب کے سپوت حمزہ شہباز نے جرائم کے خاتمہ کے لئے ذوالفقار احمدچیمہ کے اقدامات کوقابل تحسین قراردیا اورحمزہ شہباز کی موجودگی میں ایک پروقار تقریب میں پولیس نے ڈاکوؤں سے برآمد ہونے والے تین کروڑ کا مال اور کیش اصل مالکان کو واپس کردیا۔ یقین مانیئے پولیس کی روایات میں یہ بات کسی انہونی سے کم نہیں وگرنہ یہ ہوتارہاہے شہریوںسے بھی مال چھن جاتاہے اورڈاکوؤ ںسے بھی اور جاتا ہے کہاں ہے آپ خود اندازہ کیجئے تیسری کونسی قوت ہوسکتی ہے یہ آپ کی ذہانت کا امتحان ہے اور آپ سب کاجواب میں نے زبان حال سے سن لیاہے آپ سب پاس ہیں۔ ذوالفقار احمد چیمہ اگر شہریو ںکا حق انہیں پولیس سے دلواتے ہیں تو جو حق پولیس والوں کا بنتاہے وہ بھی انہیں عطا کرتے ہیںپولیس کی بھی حق تلفی نہیں ہونے دیتے اسی تقریب میں جہاں شہریوںکوتین کروڑ کا مال و کیش واپس کیا وہاں پولیس کے ان نوجوانوںجنہوں نے جرائم پیشہ لوگو ںاور پیشہ ور گروہوںکے خلاف جرات اور بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا ان130 افسران اور وجانوں میں سولہ لاکھ روپے کے انعامات تقسیم کئے گئے اور حمزہ شہباز نے ان کے اقدامات کو بہت سراہا ۔ تھانہ کلچر میں تبدیلی نمودار ہو رہی ہے اب شہریو ںسے پولیس کا رویہ خاطر خواہ حد تک بہترہوا ہے اور ڈی آئی جی تھانوں سے رشوت کا خاتمہ کرنے کے خواب کو ضرور پورا کریں گے اور گوجرانوالہ میں ایک نئی پولیس دیکھنے کوملے گی اور دیگر شہرو ںکے لوگ خواہش کریں گے کہ ان کے ہاں بھی پولیس کا رویہ ایسا ہو جائے اس کے لئے ہر ضلع میںایک ذوالفقار احمد چیمہ چاہئیے پنجاب حکومت نے بھی پولیس کی تنخواہیں ڈبل کرکے پولیس ملازمین کو مزید مواقع فراہم کئے ہیںکہ وہ رزق حلال کھائیں اور اس قدر تنخواہ میں رزق حلال سے بآسانی گزارہ ہوسکتاہے۔ تقریب میںموجود پولیس افسران اورجوانوں سے مخاطب ہو کر ڈی آئی جی گوجرانوالہ نے کہا کیا رشوت کا شیطانی راستہ چھوڑ کرعزت کے راستے پر چلتے ہوئے شہریو ںکاتحفظ کرو گے تو سب نے بآواز بلند کہا ہاں کریںگے۔ جیسے بھٹو نے کہا تھا لڑو گے عوام نے کہ لڑیں گے۔ بھٹو نے کہا مرو گے سب نے کہا مریں گے۔ یہ بات ضیاء الحق ، پرویز مشرف نے لوگوں سے کیوں نہیں کہی اس لئے کہ انہیں لوگوں کی جمایت حاصل نہیں تھی جولوگوں میںمقبول ہوتاہے وہی یہ کارنامہ سرانجام دیتاہے مقبول وہی ہوتاہے جو لوگوںکیلئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتاہے اور پھر لوگ بھی اس پراپنی جان نچھاور کردیتے ہیں۔لوگ اپنے اوپر اس کا قرض نہیں رہنے دیتے۔ اپنی محبوب شخصیت پر جانیں نچھاور کردیتے ہیں دنیا کی تاریخ گواہ ہے جس شخص نے لوگوں کے لئے کچھ کر گزرنے کا بیڑا اٹھایا لوگوں نے اس کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جب 5 جون1963 کو آیت اللہ کی کال پر امام بارگاہوں، مسجدوں سے لوگ جلوس در جلوس شہنشاہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر آ گئے اگلی صبح روح اللہ خمینی کو گرفتار کرلیاگیا۔ان کی گرفتاری پر تین دن تک تہران میدان جنگ بنا رہا عوام نے ہر چیز کو آ گ لگا دی۔ شہنشاہ نے حکم دیا کہ بغاوت کو ہر قیمت پر کچل دیا جائے ٹینک اور آرمڈ گاڑیاں سڑکو ںپرآگ برسانے لگیں اور 9 ہزار آدمی مارے گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے لئے لوگو ںنے خود سوزی کی آور آج بھی بھٹوکے نام پر پیپلز پارٹی کو ووٹ ملتے ہیں۔ بے نظیر کے نام پہ ووٹ ملتے ہیں جبکہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کریڈٹ میں ایسی بات نہیں۔ محبت ایک خاموش جذبہ ہے جس قدر آپ کسی کو چاہتے ہیں وہ بھی اس کے جواب میں وہی کچھ لوٹاتاہے اگر بھٹو نے لوگوں کے لئے کچھ کرگزرنے کے لئے کوشش کی تو لوگ اس جذبے کی قدر آج تک کرتے چلے آ رہے ہیں اگر ذوالفقار احمد چیمہ دن رات لوگوں کے لئے کوشاں ہیں لوگوں کی سہولت کے لئے پولیس کوبہتر اور اس کی کارکردگی کو بہترتر بنانے میں مصروف عمل ہیں تو لوگ بھی انہیں عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیںاور دل وجان سے ان کااحترام کرتے ہیں ورنہ اس شہر میں بے شمار ڈی آئی جی آئے اور آ کر چلے گئے اور پھر قصہ پارینہ بن گئے۔ مگر ڈی آئی جی ذوالفقا راحمد چیمہ لوگوں کے دل و دماغ میں گہرے اور ان منٹ نقوش چھوڑرہے ہیں جو ہمیشہ گوجرانوالہ کے باسیوں کویاد رہیں گے۔