Home » Article » پاکستان کھپے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

پاکستان کھپے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے ، میں بھی اس نظریہ اور نعرہ کاقائل ہوں ۔ دوسری کسی سیاسی جماعت کی جڑیں چاروں صوبوں میں موجود نہیں ، پیپلزپارٹی واقعی وفاق کی علامت ہے مگر پیپلز پارٹی والے جب یہ کہتے ہیںکہ ہم سندھ کارڈاستعمال کریں گے تو کیا یہ وفاق کی علامت رہ جاتی ہے کیا چاروں صوبوں کی نمائندہ جماعت رہ جاتی ہے اس کا فیصلہ پیپلز پارٹی پہ ہی چھوڑتے ہیں ۔ کیا قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے زندگی میں کبھی سندھ کارڈ کا نعرہ لگایاتھا اگر نہیں تو کیا پیپلزپارٹی قائد عوام ہی کی نمائندہ جماعت ہے کیا یہ قائد عوام کی شہادت اور اصولوں کے منافی نہیں اب اگر پیپلز پارٹی والے یہ عذر تلاش کریں کہ ن لیگ پنجاب کا نعرہ لگاتی ہے پنجاب بنک بنتاہے۔ جاگ پنجابی جاگ تیری پگھ نوں لگ گیا داغ کا نعرہ لگاتی ہے تو ہم سندھ کارڈ کا نعرہ کیوں نہیں لگا سکتے۔توعرض کریں پھر پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اگر ن لیگ چاروں صوبوں کی نمائندہ جماعت نہیں تو پیپلز پارٹی بھی نہیں رہے گی۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کسی بھی حاکم وقت کے وزراء سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیںاور جو وزراء حقائق پہ مبنی مشورے دیتے ہیں وہ اس حاکم سے بھی مخلص ہوتے ہیں اور اس جماعت سے بھی مخلص ہوتے ہیں۔ زمینی حقائق کو پس پشت ڈال کر اگر وزراء حاکم وقت کو آگاہ نہیں کرتے اس کی خوشامد کرنے میں لگے رہتے ہیں تو وہ اس حاکم وقت کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ جب موسی علیہ السلام نے فرعون کو دعوت حق دی اور موسی علیہ السلام کی مدلل گفتگو کے مقابلہ میں فرعون کوئی دلیل پیش نہ کرسکا تواس نے کہا میں اپنے وزیر ہامان سے مشورہ کروں گا کیونکہ بادشاہ کے لئے وزیر کی رائے ضروری ہے۔ فرعون نے موسی علیہ السلام کی دعوت کا ہامان سے ذکر کیا اسے اپنا رازداں بنایا۔ ہامان لعین رونے لگا ٹوپی اورپگڑی کو زمین پرپٹخ دیا اور روتے ہوئے کہنے لگا اس گستاخ نے بادشاہ کے سامنے کیسے کہہ دی اتنی بڑی بات۔ اے بادشاہ تو نے عام دنیا کواپنے تابع بنا لیاہے۔ مشرقوں اور مغربوں سے بلا جھگڑے کے بادشاہ تیرے پاس خراج لاتے ہیں۔ باغی گھوڑا جب ہمارے گھوڑے کودیکھتاہے بغیر ڈنڈے کے رخ پھیر لیتاہے اور بھاگ جاتاہے۔ اب تک تو عالم کامعبوداور مسجود تھا اب حقیر ترین بندہ بنے گا۔ اے بادشاہ خبردار پہلے مجھے قتل کردے تاکہ میرے آنکھ بادشاہ کی یہ حالت نہ دیکھے۔ ہامان نے اپنی اس بری گفتگو سے فرعون کی ہدایت کار استہ بند کردیا اور فرعون کو راہ راست پر نہ آنے دیا۔ آج ہمارے وزراء بھی آصف علی زرداری کو ایسے ہی مشورے دے رہے ہیں ایسی ہی خوشامدیںکررہے ہیں جیسے وفاقی وزیر مملکت امتیاز صفدر وڑائچ نے یہ بیان جاری کیاہے کہ آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ملک کو استحکام بخشا۔ وڑائچ صاحب کاخیال ہے آصف علی زرداری نے پاکستان کھچے کا نعرہ لگا کر اس قوم پہ بڑا احسان کیاہے۔ کیا آصف علی زرداری محب وطن نہیں ہیں اگر محب وطن ہیں تو ہر محب وطن صبح اٹھتا اور نماز کے بعد اپنے ملک کی سلامتی کیلئے دعا کرتاہے۔ پاکستان کابچہ بچہ پاکستان زندہ باد کانعرہ لگاتاہے کیا یہ زرداری کے کریڈٹ پہ بہت بڑی بات ہے کہ انہوںنے پاکستان کھچے کا نعرہ لگایا۔ کیا اگر وہ یہ نعرہ نہ لگاتے تو ملکی استحکام خطرے میں پڑ جاتا۔ وفاقی وزیر مملکت کاتعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے ہے کیا انہوں نے آصف علی زرداری کو کبھی یہ باور کرایا کہ محترمہ کی شہادت پہ محترمہ کے عقیدت مند اور ورکر اور سیاسی قائدین غم والم میں ڈوبے جب لاڑکانہ پہنچے تو پنجابی ہونے پرانہیں وہاں گالیاں دی گئیں کیونکہ محترمہ کی شہادت پنجاب میں ہوئی اگر پنجاب میںیہ افسوسناک اورغم ناک واقعہ ہوا تو اس میں تمام پنجابیوں کا کیا گناہ ہے اور پھر کس منہ سے کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی وفاق کی علامت ہے۔ پیپلز پارٹی میں پنجاب کا بہت بڑا رول ہے۔ پنجاب پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے اور پنجاب کے لوگ شہید محترمہ بینظیر اور ذوالفقار علی بھٹو کے پرستار ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے لئے اگر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیاہے تو کیا آصف علی زرداری کا ان کے مقابلہ میں یہ نعرہ ملک کو استحکام بخشنے کے لئے کافی ہے کہ پاکستان کھپے۔ یہ آصف علی زرداری کا فرض ہے اس ملک کا اس پر قرض ہے کہ وہ اس کی سلامتی کی دعا کرے۔ اس ملک نے اسے اتنے بڑے منصب پہ فائز کیاہے اور وزراء خوشامد کی بجائے صدر مملکت کو ان کی ذمہ داریو ںسے آگاہ کریں تاکہ ملک وقوم کی خدمت ہواور انکے ووٹ بینک میں اضافہ ہو اورپیپلز پایرٹی کا مورال بلند ہو۔ ستائش باہمی بیان بازی سے لیڈر کو اندھیرے میں رکھا جاتاہے اور زمینی حقائق کسی کو معاف نہیں کرتے۔ زمینی حقائق یہ نہیں کہ بھٹو خاندان کا استحکام پاکستان میں موثر کردار ہے۔ صدر آصف علی زرداری کا ایسا کوئی کارنامہ تا دم تحریر موجود نہیں جسے استحکام پاکستان کے لئے رقم کیا جاسکے۔ پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر ان کی بے جا خوشامد کی بجائے انہیں عملی طور پر استحکام پاکستان کا کوئی فارمولا دیا جائے تاکہ آنے والے وقت میں جہاں پیپلز پارٹی کے کریڈٹ میں ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بینظیر بھٹو کی خدمات تاریخ کا حصہ ہیں وہاں تاریخ داں آصف علی زرداری کی خدمات کوبھی قلم کے سپرد کرسکے۔ پاکستان کے استحکام کے لئے اگر کوئی کردار ہے تو ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کا ہے اور آصف علی زرداری نے ان کے اس کردار کو کیش کرایاہے البتہ انہیں قدرت نے موقع دیاہے کہ وہ اپنا حصہ اس میں ڈال سکتے ہیں مگر اس طرح کی خوشامدی بیان بازی سے انہیں عملی کوشش کرنے سے دورہی رکھا جاسکتاہے اس ملک کا عام شہری پاکستان کھپے کا نعرہ لگاتاہے اسے کوئی کریڈٹ نہیں دیاجاتا جو کہ بے لوث نعرہ لگاتاہے جس نے اس ملک کو بہت کچھ دیاہے۔ کوئی قرض نہیں لیا کوئی ڈیل نہیں کی ، جو نیب کی لسٹو ںمیں شامل نہیں جو کسی نادہندگان کی فہرست کی زینت نہیں جو اپنے خون پسینے کی کمائی سے یوٹیلٹی بلز بھی ادا کرتاہے ٹیکس بھی ادا کرتاہے مگر اسے اس کے بنیادی حقوق دستیاب نہیں اسے سوئی گیس بجلی ،چینی دستیاب نہیں جو وہ قیمتاً لیناچاہتاہے مفت لینا نہیں چاہتا۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ صدر مملکت کی توجہ ان بحرانوں کی طرف دلوائی جائے ان کے حل کے لئے کوئی سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کیاجائے نہ کہ خوشامدی بیان بازی میں اونچی پرواز کی جائے۔
شہرت کی فضاؤں میں اتنا نہ اڑو ساغر
پرواز نہ کھو جائے ان اونچی اڑانوں میں