Home » Article » ایف آئی آر کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: ڈکٹر الماس

ایف آئی آر کی آپ بیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: ڈکٹر الماس

میرے ہم وطنو!آپ نے دور طالب علمی میں بہت سی آ پ بیتیا ں پڑھی ہونگی اور بہت سی جگ بیتیا ں اور ہڈ بیتیاں بھی پیش آئی ہونگی ۔آج ایک انوکھی ڈرا دینے والی ،پریشان اور دھمکا دینے والی ،سولی پر لٹکا دینے والی،گھر سے بے گھر کر دینے والی ،آنکھوں والی اور اندھی بھی ،جلا وطن کردینے والی اور کبھی کبھار فائدے دینے والے ایک کاغذ پر مشتمل ایف آئی آر کی آپ بیتی آپ کے سامنے حاضر ہے ۔۔”میں تمام کاغذوں کی طرح کا ہی ایک کاغذ ہوں بلکہ ہلکی قسم میں ہی آتا ہوں ،میں کسی درخت کا اٹوٹ انگ ہوں ،مختلف قسم کے تیز دھار آلے سے گزرتے ہوئے ایک کاغذ کی شکل اختیار کرتاہوں ۔میرے ساتھی کاغذ دنیا میں بڑے مفید اور مضر کاموں میں استعمال ہوتے ہیں بلکہ خوش نصیب کاغذوں کا شمار قرآ ن پاک کے نسخے لکھنے میں آجاتا ہے کوئی کاغذ نکاح ناموں یعنی میل ملاپ کیلئے استعمال ہوتے ہیں کچھ کاغذ لکھائی کیلئے درسگاہوں میں چلے جاتے ہیںتو کچھ ملکی کرنسی کی زینت بن جاتے ہیں ،میں بد نصیب تھانوں میں بجھوادیا جاتا ہوں ،ہم سب کاغذوں کی جائے پیدائش تو ایک ہے، بالکل اسی طرح کہ کوئی مادر ذات برا نہیں ہوتا لیکن کبھی اچھوں سے برے او ربروں سے اچھے کام بھی لئے جاتے ہیں۔ میں دراصل اچھے کاموں کی نسبت سے ہی تھانوں میں آتا ہوںاور ایف آئی آر کا روپ دھار لیتا ہوں ۔لیکن میں بدقسمتی سے بہت سے کرپٹ افسران کے ہتھے چڑ ھ جاتی ہوں میرے سے زیادہ بدنصیب کون ہوگا کہ جس کے سامنے بے شمار لوگوں کے گھر اجڑے ہونگے ،زمینیں بنجر ہو گئی ہونگی ،زمینوں میں خون جذب ہوا ہوگا ،اپنے پرائے اور جلا وطن ہوئے ہونگے، راتوں کی نیندیں اڑ گئی ہونگی، جیلیں کاٹنا پڑی ہونگی، سولی چڑھے ہونگے ،لیکن بہت سارے لٹیرے ، ڈکیت ،رسہ گیر ،چور اور قاتل اپنے انجام تک بھی پہنچتے ہیں ۔لیکن آج میں آ پ کو بتا دیتی ہوں کہ میرے مختلف ریٹس ہیں ہر دفعہ(Offence)کے مطابق میری قیمت لگائی جاتی ہے بالکل اسی طرح ،جس طرح بازار حسن میں سب سے زیادہ قیمت حسن کی لگتی ہے،میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جتنی خوبصور ت یعنی سخت دفعہ(Offence) ہوگی اتنی ہی میری قیمت زیادہ ہوگی ،میرے درج ہونے کی بڑی عجیب اور تاریخی عبارتیں رقم ہوئی ہیں ،سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر بھی میرے آگے کچھ نہ کر سکے ایک تاریخی انداز تھا وزیر اعظم کو پھانسی چڑھایا گیا ،میرے باس یعنی پولیس آفیسرآنیوالے سائل کے اسٹینڈرڈ اور اسکی شہرت دیکھ کر مجھے درج کرنے کی بولی لگاتے ہیں اور اچھے دام ملنے پر مجھ پر تحریر کر دیا جاتا ہے ۔یہاں پر آنیوالی درخواست تک پر پیسے لئے جاتے ہیںاور درخواست کے کاریگر یعنی ریٹائرڈ پولیس افسران زیادہ دفعات کیلئے سخت درخواست لکھتے ہیں اس کی فیس بھی زیادہ طلب کی جاتی ہے ،خیر میری تو بات ہی نرالی ہے ۔لڑائی گھر کے باہر ہو تو میرے افسران بڑی مہارت سے گھر کے اندر داخل کردیتے ہیں ۔اس سے 10ہزار سے لے کر 50ہزار یا اس سے زائد کی رقم بٹو رلی جاتی ہے (شخصیت اور لڑائی کے مطابق )۔جعل سازی کے مقدمات کے لئے میرے ریٹس بھی مختلف ہوتے ہیں یعنی فراڈ کی مالیت کے مطابق ،اسی طرح چیک پر دھوکہ دہی کا مقدمہ بھی کچھ ایسے ہی درج کیا جاتا ہے جتنی بھاری مالیت کا چیک اتنا ہی میر ا ریٹ اپ ہوگا۔قتل و غارت کے لئے میرے ریٹس تو لاکھوں سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں ۔کیونکہ اس میں بہت سے افسران ملکر مشورہ دیتے ہیں کہ اس شخص پر یہ اسلحہ ڈال دو ،اس نے یہ کیا ہے ،اس شخص کو مشورہ میں رکھو یہ چلتا پر زہ ہے ،اس شخص کی جائیداد کافی ہے۔وہ پیسے اچھے لگائے گا وغیرہ وغیرہ ۔میں کئی بار مدعی اور ملزم دونوں پر بھی درج ہو جاتی ہوں ۔بات پیسوں کی ہے ۔7/51لگ جائے یا کراس ورشن ۔کراس ورشن میں میری خوبصورتی کا گراف بڑھ جاتا ہے یعنی ریٹس اچھے مل جاتے ہیں دیکھیں نہ یہ بیچارے افسران کیا کریں ان کی تنخوائیں اتنی نہ ہیںجتنا ان سے کام لیا جاتا ہے ۔ 24گھنٹے سروس بھی تو ایک معنی خیز کام ہے آخر میرے افسران بھی تو انسان ہی ہیں اپنے اخراجات کو چلانے کے واسطے میرا ہی رعب ڈال کر منتھلی وصول کی جاتی ہے ورنہ کیا مجال ہے کہ کسی تھانہ میں موجود افسران کی اجازت کے بغیر کسی علاقہ میں ناجائز فروشی کے اڈے ،چوری چکاری ،ڈکیتیاں عمل میں آجائیں بلکہ بڑی مزے کی بات یہ کہ بعض اوقات اسٹیشن ہاؤس آفیسر اپنے جانباز ڈکیت ساتھ لیکر آتے ہیں اسی لئے تو ہر علاقہ میں وارداتوں کی نوعیت بھی علیحدہ ہوتی ہے شہری حدود میں گاؤ ں کے باشندے وارداتیں اسی طرح کرتے ہیں ۔کئی ایم این ایز ،ایم پی ایز اور منتھلی دینے والے حضرات مجھے اپنے ڈیروں اور آفسز میں حاضر کر لیتے ہیں ۔تاکہ اپنی مرضی سے اپنی اطاعت کے مطابق ایف آئی آر درج کروائی جا سکے۔ میں مظلوم ہوتی ہوں درج ہوجاتی ہوں ۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عوام کے لیڈر ،عوام پر ہی ظلم کرتے ہیں اور یہ سب میرے سامنے ہوتا ہے۔ان شریف بندوں کی آہیں بھی سنتی ہوں جو بے گناہ تھانوں میں اور بعد ازاں جیل بجھوادیئے جاتے ہیں ان میں سے اکثر غنڈہ عناصر کا روپ دھار لیتے ہیں میرے غلط اندراج کی وجہ سے ۔میں ہوں تو ایف آئی آر لیکن ساری زندگی کے لئے میں اس کے کریکٹر کو برباد بھی کردیتی ہوں اکثر اوقات میرے افسران جن میںچھوٹے افسران کانسٹیبل سے لیکر اعلیٰ افسران شامل ہیں میرے لئے تو یہ سارے افسر ہی ہیں،جب کسی ایماندار اور دیانتدار کے قابو آجائیں تو اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ورنہ اپنی کمائی ہوئی دولت سے اپنے اعلیٰ آفیسر ز کی خوش آمد یا قیمتی تحائف کے باعث بچ نکلتے ہیں اور پھر اپنی چھریاں مزید تیز کر لیتے ہیں میرے ریٹس اور بڑھتے ہیں میرے ہی غلط اندراج سے بیرون ممالک پولیٹیکل سٹے لی جاتی ہے ۔میں ہر لحاظ سے بڑی اہمیت کاحامل ہوں۔میرے اندراج کا جتنااثر ایک عام شہری پرہے اتنا ہی صدر اور وزیراعظم جیسے بندوں پر بھی ہے ۔مگر دور اقتدار میں میرا کوئی اثرنہیں ہوتا میرے ریٹس مزید بڑھتے ہیں جب کوئی اعلیٰ پولیس آفیسر ڈی آئی جی گوجرانوالہ ذوالفقار احمد چیمہ جیسا ہو۔کیونکہ ایماندار اعلیٰ آفیسر کا خوف دلا کر عوام سے میرے افسران اصل قیمت سے دو گنا یا تین گنا زیادہ چارجز وصول کرتے ہیں کئی دفعہ جب میرے آفیسر ز کو میری قیمت نہیں ملتی تو عوام اعلیٰ افسران کے پاس احتجاجا یا پھر کورٹس کا رخ کرتے ہیں آخر مجھے درج ہونا پڑتا ہے ،لیکن یہ وہ پل ہیں جہاں سے پانی ہو کر گزرتا ہے۔ عوام اس بارے میں بڑی سمجھدار ہے لیکن فیس پھر بھی دی جاتی ہے یا میرے افسران ایسے حالات پیداکرتے ہیں کہ فیس دی جائے۔ مجھے میری آپ بیتی مزید نہ پوچھیں قلموں میں سیاہیاں ختم ہوجائیں گی ۔میری آپ بیتی کے کارنامے نہیں ۔میری سوچ کے مطابق اگر صرف ایک تھانہ کا ایس ایچ اوٹھیک ہوجائے تو آدھے سے زائد کرائم خود بخود ختم ہوجائے گا۔علاقوں سے فحاشی کے اڈے ،جوئے اور منشیات فروشی،چوری ،ڈکیتی ،رسہ گیری،اغوا برائے تاوان اور قتل وغیرہ کی وارداتیں ختم ہوجائیں ” اگر ایف آئی آر صحیح درج ہوتو ہمارا ملکی نظام درست ہوجائے ۔تب ہی لوگ کلمہ کے نام سے حاصل کیے گئے آزاد ملک میں آزادی سے سانس لے سکیں گے ۔