Home » Article » گوجرانوالہ کے مسائل کب حل ہوںگے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: سید مسلم جاوید مظلوم

گوجرانوالہ کے مسائل کب حل ہوںگے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: سید مسلم جاوید مظلوم

اس وقت گوجرانوالہ کے عوام کا اہم مسئلہ تجاوزات ہے گوجرانوالہ شہر سے مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے ایم این اے،ایم پی ایز بھی منتخب ہوتے رہے ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین اور مسلم لیگ(ن)کے پاس بھی وزارتیں رہی لیکن گوجرانوالہ کے عوام کے مسائل حل نہ ہوسکے۔اس وقت گوجرانوالہ شہر کارپوریشن کا درجہ اختیار کرنے کے ساتھ ڈویژن کا درجہ بھی حاصل کر چکا ہے۔گوجرانوالہ شہر کے عوام کے مسائل آج بھی جوں کے توں ہیں۔اس وقت شہر کا اہم مسئلہ تجاوزات مافیا اور قبضہ گروپ کاہے۔ گوجرانوالہ شہر میں دو اہم انقلابی اقدامات سابقہ حکومت کے دور میں سامنے آئے جن میں سٹی ٹریفک پولیس اور 1122کا ہنگامی دفتر کا قیام قابل ذکر ہے اس کے علاوہ شہر کیلئے کوئی قابل ذکر پیشرفت سامنے نہیں آئی۔گوجرانوالہ شہر کے اندرون شہر کا واحد کاروباری مرکز بازار الماریاں ہے جس میں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور اس سے ملحقہ بازار سبزی منڈی،بازار خراداں،پرانا مسافر خانہ،چوک چشمہ، سرکلر روڈ جن کی حالت آج بھی جوں کی توں ہے جبکہ اندرون شہر کی سڑکوں کی تعمیر وترقی میں کروڑوں روپے خرچ ہو چکے ہیں۔گوندلانوالہ روڈ کی سڑک بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔بازار الماریاں کی حالت اتنی خستہ ہو چکی ہے کہ اس بازار میں کوڑے کے ڈھیر اور غلیظ پانی یہاں کاروبار کرنے والے تاجروں میں بیماریاں پھیلانے کا موجب بن رہا ہے۔جبکہ گڑ گلہ مارکیٹ،بینک اسکوائر کی سڑکیںبھی کھنڈرات کا سماں پیش کرتے ہیں اور اس پر ان علاقوں میں ناجائز تجاوزات کی شکل میں سبزی کے خوانچہ فروشوں،فروٹ کی ریڑھیوں،مچھلی کی ریڑھیوں اور اس بازار میں روزانہ کروڑوں روپے کا کاروبار کرنے والے تاجروں نے اپنی دوکانات کے آگے سرکاری سڑک اور فٹ پاتھ کی جگہ کے 12فٹ سے 15فٹ کی جگہ پر ناجائز قبضہ کر کے اس بازار کو آمدورفت کیلئے مدوا کر دیاہے یہ ہی حالت سرکلر روڈ کی ہے جہاں پر کاروباری لوگوں نے فٹ پاتھ پر قبضہ کرنے کے ساتھ سڑک کی جگہ کو بھی اپنے کاروبار میں شامل کر کے سڑک کی چوڑائی کو سنکڑ کر رکھ دیا ہے۔یہ صورتحال گوجرانوالہ کے اندرون شہر بازاروں کی ہے اور عملہ تہہ بازاری،سٹی ٹریفک پولیس اورضلعی انتظامیہ کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اسی طرح جی ٹی روٖڈ گوجرانوالہ کے فٹ پاتھ اور سڑک بھی ناجائز تجاوزات کرنے والے دوکانداروں،ہوٹلوں،پلازوں،ہوٹلوں،موبائلز فون کا کاروبار کرنے والوں،مسہری سجانے،گاڑیاں سجانے والے پھولوں والوں نے بھی جی ٹی روڈ کی سڑک اورفٹ پاتھ پر قبضہ جما رکھا ہے جبکہ جی ٹی روڈ پر ہی گنے بیلنے کی مشنیں،سی ڈی کا کاروبار کرنے والوں نے بھی فٹ پاتھ کو اپنے استعمال میں لانے کے بعد سڑک کو بھی تنگ کر دیا ہے۔ جبکہ رہی سہی کسر پلازوں کے مالکان نے غیر قانونی سٹینڈز بنا کر پوری کر دی ہے۔جی ٹی روڈ کے علاوہ ضلع کچہری،لیاقت باغ کے باہر،منیر پلازہ کے باہر میڈیکل کمپلیکس والوں نے پوری پوری گلیوں پر قبضہ کر کے غیر قانونی پارکنگ سٹینڈز بنا رکھے ہیں جس سے شہر میںقانون کی حکمرانی کہیں نظر نہیں آتی بلکہ شہر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے اڈے بننے سے بھی لوگوں کو پیدل چلنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ گوجرانوالہ کے رہائشی علاقے بھی کاروباری مرکز میں تبدیل ہو چکے ہیں اور رہائشی لوگوں کو اپنی رہائشیں چھوڑ کر پیپلز کالونی،ماڈل ٹاؤن،واپڈا ٹاؤن،گرجاکھ، باغبانپورہ کی رہائشی آبادیوں میں شفٹ ہونا پڑ رہا ہے۔شہر میں ٹریفک پولیس، ضلعی پولیس اور ضلعی انتظامیہ ،عملہ تہہ بازاری کی موجودگی میں بھی کارکردگی صفر نظر آتی ہے جب تک اعلیٰ حکام ذمہ داری کا ثبوت نہیں دیتے شہر میں تجاوزات مافیا کا خاتمہ ممکن نہیں جو دن بدن بڑھ رہے ہیں۔