Home » Article » ہم ماضی پرست ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہرمحمد امین

ہم ماضی پرست ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہرمحمد امین

ہم ماضی پرست لوگ ہیں اسی لئے ہم کسی چیز کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ دنیا کی دیگر اقوام اپنا فرنیچر، اپنے ریفریجریٹر، اے سی، ٹی وی، وی سی آر، مائیکرویو اوون اور ضرورت کی دیگر الیکٹرانک اورذاتی استعمال کی اشیاء تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ پرانا سامان باہر بر لب سڑک چھوڑ دیتے ہیں اور نیا سامان خرید کر گھر اور آفس کی زینت بناتے ہیں مگر ہم ہر چیز سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور ہر ناکارہ چیز کی مرمت کراتے رہتے ہیں کسی دوسرے مستحق انسان کے لئے نہیں چھوڑتے کیونکہ ہم ماضی پرست ہیں اور اپنے ماضی کویاد کرکے ماضی پرست ہونے کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔ آج لوگ پرویز مشرف کو بھی یاد کرتے ہیں جسے ہم ہر برائی کی جڑ قرار دیتے تھے اور جڑ بھی ایسی کہ جو پھلنے پھولنے والی تھی اب بھی ان جڑوں سے کونپلیں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی برآمد ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ڈکٹیٹر ملکی نظام اور استحکام کو تباہ کردیتے ہیں مگر آج بھی ٹرکوں کے پیچھے فیلڈ مارشل ایوب خان کی تصویریں ہائی وے پر مفت نمائش کرتی نظر آتی ہیں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ آج بھی لوگ ضیاء الحق کی نمازجنازہ اورلوگوں کی سسکیوں اور اظہر لودھی کی اشکوں بھری کمپیئرنگ کا رونا روتے ہیں اور ضیاء الحق کے دور کو یادگار قرار دیتے ہیں آج بھی ہمارے بڑے بوڑھے انگریز دور کی داستانوں کو سینہ بہ سینہ نوجوان نسل کو منتقل کرتے رہتے ہیں کہ انگریز دور میں عورت زیور سے لدھی ہوئی گزرتی تو کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ اسے دیکھ سکے۔ آج کانوں سے بالیاں کانوں سمیت نوچ لی جاتی ہیں اوریقیناً انگریز دور میں ہمارے آباؤ اجداد مغلیہ دور کویاد کرتے اور اس دور کے سنہری واقعات کو دہراتے ہوںگے اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہر آنے والا پہلے سے بدتر ہوتاہے اور ہم کہتے ہیںکہ اس سے پچھلا بہتر تھا۔ یقیناً ایک وقت آئے گا لوگ کہیں گے زرداری کا دور سنہرا دور تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حکمران آتے رہتے ہیں لیڈر نہیں آتے۔ حکمران اور لیڈر میں فرق ہے۔ یہ فرق بہت واضح اور صاف ہے۔ بقول جاوید چودھری قائد اعظم محمد علی جناح پندرہ کروڑ عوام کے لیڈر تھے انہوں نے پاکستان بننے سے بہت پہلے اپنی اکلوتی واحد اولاد اپنی بیٹی وینا جناح کو عاق کرکے قطع تعلق کرلیاتھا وہ مرتے دم تک اپنی بیٹی سے دوبارہ نہیں ملے لیکن آج بھی دنیا میں جب قائد کی بیٹی نیو یارک شہر سے نکلتی ہے تو پاکستانی انہیں دیکھ کر رک جاتے ہیں گاڑیاں کھڑی کردیتے ہیں سگریٹ بجھا دیتے ہیں اور آگے بڑھ کران کے ہاتھ چوم لیتے ہیں۔ درجنوں لوگوں کے پاس ایسے قلم ہیں، لیٹر پیڈ، رومال اور نیپکین دیکھے گئے ہیں جن کے بارے بتایاگیاہے کہ یہ رومال یہ نیپکین یہ لیٹر پیڈ قائد اعظم نے ایک باراستعمال کیاتھا۔ ۔لوگ انہیں متبرک سمجھتے ہیں، قائد اعظم کے مزار پر ہر وقت چاک و چوبند دستہ ڈیوٹی پر موجود رہتا ہے اور ملک بھر سے عام آدمی سے لے کر حکمرانوں تک قائد کے مزار پر فاتحہ خوانی کے لئے جاتے ہیں، یہ ہے ایک لیڈر کی عزت لیکن اس کے برعکس کتنے لوگ جانتے ہیں غلام محمد، سکندر مرزا، یحی خان، ملک فیروز خان نون کس جگہ دفن ہیں ان کی اولادیںکہاں ہیں یہ ہے حکمرانوں کی داستان۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاںجتنے بحران پیدا ہوتے ہیں ان کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں لیڈر شپ کابحران ہے ہمیں حکمران تو بہت ملے لیڈر نہیں ملے اور ہم سابقہ حکمرانوں کویاد نہیں کرتے ان کے دورحکومت کویاد کرتے ہیں کیونکہ ہر آنے والا حکمران پہلے سے بدتر آتاہے اور ہم کہتے ہیںاس سے پرانا حکمران بہتر تھا۔ حالانکہ وہ بہتر نہ تھا لیکن نیا آنے والا اس سے بدتر آیا اورہم ماضی کویاد کرتے ہیں اور ہمارے ماضی پرست ہونے کاسبب یہ ہے کہ ہماری ماضی کی روایات مثالی ہیں ہمارا بطور مسلمان کردار مثالی ہے مگر آج کے مسلمان کا کردار نمائشی ہے آج ہمارا کوئی کردار نہیں اسی لئے ہم صحابہ اجمعین کی داستانیں سینے سے لگائے پھرتے ہیں ہم حضرت علی ؓ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓاور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی داستانیں بیان کرکے ان پہ اتراتے ہیں ۔ خلفاء راشدین کے دور کی داستانیں بیان کرکے اپنے ماضی پرست ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں۔ آج ہمارا اپنا کوئی کردار نہیں ۔ آج ہم ڈالروں کی بڑھتی ہوئی قیمت پر مشرف دور کواچھے لفظوں سے یاد کرتے ہوئے لال مسجد جامعہ حفصہ کے اندوہناک واقعات کوبھول جاتے ہیں کہ مشرف دور میں ڈالر 65 روپے کا تھا اب84 روپے کاہے۔ آج ہم دو روپے کی روٹی اسکیم کو ہدف بناتے ہیں کل اسے آنے والے دورمیں حکومت پنجاب کاایک سنہری کارنامہ قرار دیں گے ہم ہر دور میں صداقت کے جرم میں مسیح کو مصلوب کردیتے اور وقت کے سقراط کو زہر پیش کرتے ہیں پھر آنے والے دنوں میں انہیں عظیم قرار دے کران کے دن مناتے ہیں۔ برطانوی شاہ کا بھائی ڈیوک آف گلوسٹر پاکستان کے دورے پہ آیا اس کی آمد سے قبل برطانوی سفیر نے قائد اعظم سے کہا کہ آپ اسے ائرپورٹ پر خوش آمدید کہہ دیں ۔ قائد اعظم نے ہنس کر کہا میں تیار ہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کے لئے ائیر پورٹ آنا پڑے گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ افغانستان اورپاکستان کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک پاکستان آتے ہیں توہمارے ملک میں آ کرہمارے حکمرانوں کوڈانٹ پلاتی ہیں امریکی وزیر خارجہ اور صدرکے لئے ہمارے حکمران ائرپورٹ پر استقبال کے لئے جاتے ہیں توہمارے صدر،وزیر اعظم کی تلاشی ا امریکی سیکیورٹی کے اہلکار لیتے ہیں اورکتے انہیں سونگھ کر کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں۔آج کون ہے جو امریکیوں سے کہے کہ جب ہم امریکہ آئیں گے آپ بھی استقبال کے لئے ائیر پورٹ آئیں گے ہماری اپنی سیکیورٹی ہوگی اور ہمارے سیکیورٹی اہلکار خوش آمدید کے لئے آئے ہوئے امریکی میزبانو ںکی تلاشی لیں گے بلکہ امریکیوں نے تو ہماری اپنے ائیرپورٹس پر سکریننگ شروع کررکھی ہے اوراعتراض پہ انہوں نے دوٹوک جملہ بولا ہے کہ کون کہتا ہے آپ امریکہ ضرور آئیں سکریننگ نہیں منظور تونہ امریکہ آئیں۔ ہم کیوں نہ ماضی پرست بنیں۔ آج قحط الرجال ہے ہمیں کوئی قد آور اصول پسند شخصیت نظر نہیں آتی اسی لئے ہم ماضی پرست ہیں اور آج کے حکمرانوں کو پیغام دیتے ہیں۔
دنیا اتے رکھ فقیرا ایسا بین کھلون
کول ہوویں تو ہسن سارے ٹرجاویں تے رون