Home » Article » آکسیجن اور انصاف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:غلام عباس

آکسیجن اور انصاف۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:غلام عباس

گذشتہ دنوں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس گوجرانوالہ ریجن ذوالفقار احمد چیمہ نے واضح کہا کہ انسان کو آکسیجن اور تازہ ہوا ضروری ہے اس کے بغیر زندگی کی گاڑی نہیں چل سکتی، ایسے ہی انصاف ہر شہری کا اولین حق ہے۔ بلا شبہ گوجرانوالہ ریجن پولیس عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کے لئے شبانہ روز کوشاں ہے۔ شہریوں کے جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کئی ایک پولیس افسران وجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ درجنوں سفاک مجرمان اپنے منطقی انجام کو پہنچے۔ انصاف کے حصول کے لئے عوام تھانہ اور عدالت کا دراوزہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ یہ اظہر من الشمس ہے کہ جناب ذوالفقار احمد چیمہ صاحب انصاف کا خون کسی قیمت پر گوارا نہیں کرتے۔ انصاف حاصل کرنے کے لئے پہلی سیڑھی ایف ائی آر ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ جرم قابل دست اندازی ہو۔ عرض ہے کہ عام لوگوں کو علم نہیں کہ ایف آئی آر کن الفاظ کا مخفف ہے ۔ زیادہ افراد اسے فرسٹ انویسٹی گیشن رپورٹ ہی کہتے ہیں ۔ FIRسے مراد فرسٹ انفرمیشن رپورٹ ہے ۔ ابتدائی اطلاعی رپورٹ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے تحت در ج کی جاتی ہے ۔ ہر جرم کی ایف آئی آر ضروری نہیں ۔ صرف قابل دست اندازی جرم پر ایف آئی آر کا اندارج عمل میں لایا جاتا ہے ۔ ناقابل دست اندازی جرم پر رپٹ تحریر کرکے سائل کو عدالت کا دورازہ کھٹکھٹانے کیلئے رہنمائی کی جاتی ہے ۔ ایف آئی آر اور رپٹ تحریر کرنا محرر کا فرض اولین ہے ۔ ایف آئی آر کٹوانا ہر شہری کا حق ہے ۔ شرط یہ ہے کہ جرم قابل دست اندازی سر زد ہو ۔ ایک عرصہ سے عوام کی طرف سے یہ شکایات وصول ہورہی تھیں کہ ان کی ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کرنے سے احتراز کیا جارہا ہے ۔ پولیس نے پنجاب بھر میں فوری ایف آئی آر کے اندارج کو یقینی بنایا ہے۔ اب یہ شہریوں کا فرض ہے کہ وہ جھوٹی ایف آئی آر لکھوانے سے گریز کریں۔ایف آئی آر کے اندراج بارے افسران بالا کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر کئی ایک پولیس افسران کو محکمانہ سزائیں دی گئی ہیں ۔ پچھلے دنوں ایک ایس ایچ او کو گھر بھیج دیاجبکہ دو تفتیش افسران کی بھی چھٹی کروادی ۔ ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے اندارج کیلئے پولیس افسران کو فری ہینڈ دیا ہوا ہے گوجرانوالہ میں اس ضمن میں اتنی سختی کی ہوئی ہے کہ کوئی پولیس آفیسر پرچہ تاخیر سے درج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔شنید ہے کہ کچھ عرصہ بعد ایف آئی آر بذریعہ ای میل بھی درج ہو سکے گی۔ مسئلہ یہاں بھی درپیش ہوگا کہ رپورٹ سچی ہو اور اسی میں بہتری ہے۔ یوں انصاف بھی میسر آ سکتا ہے اور دشمنیاں ختم ہوں گی۔ پنجاب بھر کے تھانوں میں کمپیوٹر رکھے جارہے ہیں اور یوں پرچوں کا ریکارڈ کمپیوٹر میں فیڈ کیا جارہا ہے۔ پہلے ایف آئی ار کی کاپی حاصل کرنے کے لئے قانونی پراسیس سے گزرنا پڑتا تھا اب تھانوں میں کمپیوٹر آنے کی وجہ سے انٹرنیٹ کے ذریعہ ایف آئی آر ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت عوام کو مل جائے گی۔مجھے یاد ہے کہ ایس پی سی آئی اے علی محسن کاظمی، اے ایس پی ماڈل ٹاؤن تھے اس وقت ان کے روبرو ایک سائل پیش ہوا اور اس نے کہا کہ پولیس ملزمان گرفتار نہیں کررہی۔ انہوں نے تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ مدعی نے بے گناہوں کو بھی پرچے میں نامزد کیاتھا جس پر اسے سمجھایا گیا کہ پولیس بے گناہ اشخاص کو گرفتار کرنے کی پابند نہیں ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ گرفتاری سے پہلے ملزمان کے بارے وجہ ثبوت صفحہ مثل پر لایا جائے۔عوام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ سچی ایف آئی آر درج کروائیں ۔ دیکھنے میںیہ آیا ہے کہ قابل دست اندازی جرم کی رپورٹ صحیح لکھانے سے چشم پوشی کی جاتی ہے ۔ مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے زیادہ سے زیادہ نام درج کروائے جاتے ہیں اس غیر ذمہ دارانہ حرکت سے دشمنیاں بڑھتی ہیں ۔ مقدمہ بھی خراب ہوجاتا ہے ۔ ایک شخص کے قتل ہونے پر مخالفین کے زیادہ سے زیادہ افراد کو پرچہ میں نامزد کردیا جاتا ہے ۔ انسانی جان کا قتل بہت بڑا ظلم ہے ۔ ایسا بھی ہوتاہے کہ مدعی بے گناہوں کو قتل میں ملوث کرکے خود بھی ظالم بن جاتاہے۔ مقدمہ درج کرنے سے پہلے مدعی کا بھی فرض ہے کہ وہ سچ پر مبنی تحریر یا بیان ایف آئی آر میں در ج کروائے۔ایف آئی آر کے چار پر ت ہوتے ہیں۔ پہلا تھانے میں دائمی ریکارڈرہ جاتا ہے ۔ دوسرا سٹی، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ، تیسرا علاقہ مجسٹریٹ، سول جج اور چوتھا مدعی کو وصول کروایا جاتاہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب کاربن پیپرکے بغیر گزار ممکن نہیں تھا۔ اب چونکہ فوٹو کاپی اور کمپیوٹر کی سہولت میسر ہے لہذا ایف آئی آر کی کاپیاں کروا کرایس پی انویسٹی گیشن، متعلقہ ڈی ایس پی وغیرہ کو بھی پرت بھجوائے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں ایک ضمیر کا پرت بھی ہونا چاہیے جو مدعی کیلئے ہوتا کہ وہ سچی رپورٹ درج کروائے ۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر مدعی غلط رپورٹ ہی کرئے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایف آئی آر کے درج کرواتے وقت دال میں کچھ کا لا کا لا ضرور ٹپک پڑتا ہے۔مدعی کے نا م نہاد چاہنے والے پارٹی باز اسے بے گناہ افراد کے نام بھی لکھوانے پر مجبور کردیتے ہیں ۔ مدعی پریشان ہوتا ہے اور اپنے بہی خاہوں کی بات ماننے کیلئے بے بس ہوتا ہے ۔اسے ہوش تب آتا ہے جب اس کا پرچہ خراب ہوجاتا ہے ۔ پولیس کو کوسنے سے پہلے ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ اس میں سب کا بھلا ہے ۔ امید ہے کہ ایف ائی آر کا اندراج کروانے والے شہری بھی اپنے ضمیر سے کلیرنس لیکر پھر کوئی قدم اٹھائیں گے۔بلاشبہ سچ کو آنچ نہیں، سچ کڑوا ہوتا ہے، اسے برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہئیے۔