Home » Article » ویل ڈن صدر آصف علی زرداری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر : یاسر بخاری

ویل ڈن صدر آصف علی زرداری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر : یاسر بخاری

پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جس نے ہمیشہ امت مسلمہ کی سر بلندی کیلئے ملت اسلامیہ کے اتحاد ، یگانگت اور یکجہتی کی کوشش کی اور جب بھی کسی جگہ پر مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کی جارحیت ہوئی یا مسلمانوں کو کسی قسم کے جبر و ستم کا نشانہ بنایا گیا پاکستان نے مظلوم مسلمانوں کیلئے آواز اٹھائی اور یہ آواز صرف حکومت پاکستان ہی کی طرف سے نہیں اٹھائی جاتی رہی بلکہ پاکستان کے عوام نے بڑھ چڑھ کر امت مسلمہ کا ساتھ دیامسئلہ فلسطین ہو یا افغانستان ، بوسنیا کے مسلمانوں کی بات ہو یا یمن وسوڈان کے اسلامی بھائیوں کی عراق پر جارحیت ہو یا ایران کے خلاف سازش پاکستانی عوام نے ہمیشہ اپنے اسلامی بھائیوں کے دکھ درد باٹنے اور مظلوم مسلمانوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور یہی نہیں بلکہ ہمیشہ اسرائیلی جارحیت ومظلوم کے خلاف عالمی سطح پر فلسطینیوں کے حقوق کی آواز بلند کی یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت قائم ہوئی اس نے امت مسلمہ کے اتحاد اور مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں آواز اٹھائی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی دنیا کے اتحاد کا جو الم بلند کیا تھا اور مسلمہ امہ کی یجہتی کا جو نعرہ لگایا تھا اس کی باز گشت آج بھی سنائی دیتی ہے عالم اسلام کو وہ دن آج تلک یاد ہیںکہ جب 70کی دہائی میں قائد عوام نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا کر امت مسلمہ کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا قائد اعوام نے اسلامی ممالک کو متحد کرنے کی جو راہ دکھائی تھی اور امت مسلمہ کو اسلامی سربراہی کانفرنس کے ذریعے اتحاد امت کا جو شعور دیا تھا وہ آج بھی ملت واحدہ کیلئے سنگ میل و مشعل راہ ہے قبلہ اول کی آزادی اور مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی وحشت و بربریت کے خلاف عوامی حکومت نے ہمیشہ مضبوط و مستحکم موقف اختیار کیا قائد عوام کے اسی ویژن کو موجودہ عوامی حکومت نے نہ صرف آگے بڑھایا بلکہ قائد عوام ثانی صدر آصف علی زرداری نے غز ہ کے محصور ین کی امداد کیلئے جانے والے امدادی قافلے پر اسرائیلی حملے کے خلاف واضح اور مضبوط موقف اختیار کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے خصوصاً اس قافلے میں شریک پاکستان کے نامور صحافی طلعت حسین اور ان کے ہمراہیوں کی اسرائیلی قید سے رہائی کیلئے موثر اورفوری اقدامات کر کے اہل وطن کے دل جیت لئے ہیں اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ صدر زرداری نے طلعت حسین کو اسرائیلی قید سے رہائی کیلئے جس طرح وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور امریکی حکام سے اس معاملے میں کردار ادا کرنے کی جس انداز میں بات کی اس کے فوری نتائج سامنے آئے او رطلعت حسین اور ان کے ہمراہی بخیریت وطن واپس پہنچ چکے ہیں ان کی رہائی میں صدر آصف علی زرداری اور عوامی حکومت کے متحرک ، بردبار ، فعال اور دانا وزیر داخلہ رحمن ملک کی نتیجہ خیز کوششوں کو پاکستان کے عوام نے بہت سراہا اور خود طلعت حسین کے اہل خانہ نے بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے صدر زرداری و رحمن ملک کو خراج تحسین پیش کیا ہے جبکہ ہر خاص و عام صدر زرداری اور وزیر داخلہ کی حکمت عملی کا معترف ہے ۔ صدر آصف علی زرداری کی طرف سے غزہ کے محصوررین کیلئے امداد لے کر جانے والے جہاز پر اسرائیلی حملے اور اس حملے میں دوست برادر ملک ترکی کے افراد کی شہادت پر اظہار افسوس اور زخمیوں کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لئے ترک صدر کو ٹیلی فون کر کے اسرائیل کی شدید مذمت اور ترک عوام و حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کو نہ صرف اہل وطن نے سراہا ہے بلکہ ترکی کے عوام نے بھی صدرزرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے خصوصاً ترک صدر کی جانب سے صدر زرداری کا شکریہ ادا کرنا پاکستان کے عوام کیلئے باعث مسرت و فخر ہے کہ ان کے عوامی صدر نے مشکل کی اس گھڑی میں امت مسلمہ کے ساتھ پاکستان کے اظہار یکجہتی کا جو انداز اپنایا وہ خوش کن اور باوقار تھا طلعت حسین کی رہائی ہماری قوم کیلئے باعث اطمینان ہے کیونکہ طلعت حسین نے اپنے فرض کی ادائیگی میں جس جرات و جوانمردی کا اظہار کیا ہے اس پر پوری قوم کو فخر ہے لہذا مورخ طلعت حسین کی رہائی میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر داخلہ رحمن ملک کی فوری موثر و تیز ترین کاروائی کو کبھی بھلا نہیں سکے گا اہل وطن تو صدر زرداری کے معترف ہیں لیکن طلعت حسین کی رہائی کے معاملے میں ملکی میڈیا بھی صدر زرداری کا ممنون ہو گیا ہے اور میڈیا کی قدآور شخصیات کیطرف سے صدر زرداری کے کردار کو خراج تحسین پیش کرنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی عوامی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی ہے ملکی میڈیا کی طرف سے ملکی وقار میں اضافے کے حوالے سے صدر زرداری کی موثر حکمت عملی کے اعتراف سے امید کی جا سکتی ہے کہ اب صدر ز رداری کے خلاف خواہ مخواہ کا پروپیگنڈہ کرنے والے مفاد پرست عناصر بھی ہوش کے ناخن لیں گے اور عوامی صدر و عوامی حکومت کے خلاف سازشوں سے پرہیز کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی روش ترک کر دیں گے ۔