Home » Article » جاگ صارف جاگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:میا ںمحمد ارشد

جاگ صارف جاگ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:میا ںمحمد ارشد

صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں قوانین موجود ہیں ، ہر سال 15مارچ کو صارفین کے حقوق کے تحفظ کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور دنیا بھر میں صارفین کے حقوق کے تحفظ اور مارکیٹ کے غیر اخلاقی ہتھکنڈوں اور دیگر ذیادتیوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا عہد کیا جاتا ہے ، موجودہ تیز رفتار اور ترقی یا فتہ دور میں صارفین کے حقوق سب حقوق پر فوقیت رکھتے ہیں ، انسانی حقوق کی سر بلندی کسی بھی معاشرے میں اسکی ترقی کا پیمانہ ہے اور انسانی حقوق سے منسلک دیگر حقوق حاصل ہوئے اس کے متن میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کا بار بار اعادہ کیا گیا ہے ، 9اپریل 1958ء میں اقوام متحدہ نے ،، گائیڈ لائنز فار کنز یومر پروٹیکشن،، کے نام سے ایک قرارداد میں صارفین کے آٹھ حقوق تسلیم کیے گئے ، ان میں تحفظ کا حق معلومات کا حق ، انتخاب کا حق ، شنوائی کا حق ، بنیادی ضروریات کا حق ، تلافی کا حق ، علم کا حق اور صحت مند ماحول کا حق شامل ہیں یہ تمام حقوق بنیادی انسانی حقوق کی اساس ہیں ، اس قرار داد پر دستخط کرنے والے ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے اور اس بات کا پابند ہے کہ اس قرار داد کی روشنی میں قوانین وضع کیے جائیں ، قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان وہی قوانین چند ترامیم کے بعد جاری رکھے جو کہ اُسے ورثہ میں برطانیہ سے ملے تھے 1951ء میں ،، فیڈرل لاذایکٹ 1951ء ،، منظور ہوا تو ،، سامان کی فروخت کا قانون فجریہ 1930ء بھی ان قوانین کی فہرست میں شامل تھا ، مگر یہ قانون بھی اپنی افادیت اس لیے نہ دکھا سکا کہ صارفین کے حقوق کو سلب کرنے والے مقدم ٹھہرے ،صارفین حقوق کو مزید تحفظ دینے کے لیے 2005میں قیام پاکستان کے 54سال بعد خواب غفلت سے بیداری ہوئی حکومت پنجاب نے ،، تحفظ صارفین کا قانون مجریہ 2005ء مورخہ 13جنوری 2005کو اسمبلی میں پاس کیا اور اُسے 25جنوری کو صوبہ بھر میں نافذ کر دیا ، اس قانون کے تحت صارفین کے حقوق کو تحفظ دینے کے لیے پنجاب کے گیارہ اضلاع میں کنزیومر اور کنز یومر پروٹیکشن کونسلر کی گئیں ان گیارہ اضلاع میں گوجرانوالہ بھی شامل ہے ، جہاں پر دونوں شعبے کام کر رہے ہیں مگر ان شعبوں کے متعلق عوام میں آگاہی نہے ہے ، جس وجہ سے ان کی افادیت متاثر کن انداز میں ابھر کر سامنے آسکی ، اپنے طور پر کورٹ اور کونسل کے ارباب اختیار نے اخبارات ، بروشر کے ذریعے صارفین کو اُن کے حقوق کے متعلق شعور دینے کیلئے کوشش کی ہے مگر یہ اقدامات بھی نا کافی ثابت ہوئے ہیں ، صارف عدالتوں کے قیام اور اُن کے طریقہ عمل کی تشہیر٬ بڑے پیمانے پرکرنے کی ضرورت ہے ، اس مقصد کے لئے ان عدالتوں اور کونسلر کے آفیشلز اورنان آفیشلز ممبر بنائے گئے ہیں ،آفیشلزممبران کی تعداد 9ہے اور نان آفیشلز ممبران کی تعداد گیارہ ہے جو کہ شہر بھر کی چیدہ چیدہ این جی اوز کے سرکردہ افراد ہیں ، اس سلسلے میں ڈی سی او سر پرست کنزیوم کونسل کے زیر نگرانی ممبران کا اجلاس ہوا ، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ نان آفشیلز ممبران کا رابطہ براہ راست صارفین سے ہے لٰہذا وہ اپنی اپنی این جی او کے پلیٹ فارم سے عوام کو اُن کے حقوق کے متعلق آگاہی دیں کہ وہ اچھی کوالٹی کی اشیاء خریدیں خریداری کے بعد رسید ضرور لیں ، جہاں اُنہیں غیر معیاری اشیاء فروخت ہوتی ملیں ، اُس کی فوراً شکایت کنز یومر کونسل میں کریں ، فروخت کنندگان اور سروس مہیا کرنے والوں کو بھی تنبع کی جائے کہ وہ غیر معیاری اشیائکو مارکیٹ میں نہ لائیں ، ریٹ لسٹیس نمایاں آویزاں کریں ، گاہک کو رسید ضرور دیں ورنہ ، ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی ، کونسلر اور صارفین کے حقوق کے تشہیر کے لیے نوجوان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے تا کہ وہ گھروں میں حقوق کے متعلق شعور دیں ، ایف ایم ریویڈیو ، کیبل نیٹ ورک ، سکولز ، کالجز میں سیمینار کے ذریعے بھی شعور اجا گر کیا جا سکتا ہے اگر فروخت کنندگان ریٹ لسٹ اور رسید گاہک کو دیں تو 80فیصد بد عنوانی کا خاتمہ ہو سکتا ہے ، ہماری بد قسمتی ہے کہ شعور کی کمی کی وجہ سے صارف کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں ہے ، اُسے معلوم ہی نہیں ہے کہ خریداری کے بعد رسید بھی لینی ہے کہ نہیں اور غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کا محاسبہ کیسے کرنا ہے ، بطور صارف ہماری ذمہ داریوں میں یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ ہر وقت خدمات ، معیار اور قیمت کے متعلق محتاط رہیں اور کسی بھی شے کو خریدتے وقت کونسے عوامل کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ، صارفین کی بڑی تعداد کسی بھی شے کی خریداری کے وقت رسید لینا ضروری نہیں سمجھتی ، اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کی وجہ سے صارف اپنے حقوق خود کھودیتا ہے کیونکہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں رہتا اور قانون اس کی مدد کرنے سے قاصر رہتا ہے ، گوجرانوالہ میں ڈسٹرکٹ کنز یومر پروٹیکشن کونسل دستگیر سٹریٹ نزد دستگیر سکول ڈی سی روڈ اور دسٹرکٹ کنزیوم کورٹ 28ڈی سی روڈ پر قائم ہیں ، کنز یومرس پروٹیکشن کونسل میں صارف اپنی شکایت کے ازالہ کے لئے سادہ کاغذ پر درخواست ڈی سی او چیرمین ڈسٹرکٹ کنز یومر پروٹیکشن کونسل کے نام بمہ اپنے بیان حلفہ بغیر کسی کورٹ فیس یا وکیل کے درج کر وا سکتا ہے ، درخواست کے ساتھ شناختی کارڈ کی کاپی ، خرید کردہ مصنوعات کی رسید اور غیر معیاری سروس کی شکل میں متعلقہ کاغذات اگر موجود ہوں تو درخواست کے ساتھ لگانا ضروری ہے ، کنز یومر کورٹ میں غیر معیاری مصنوعات سے متعلق شکایات کے ازالہ کے علاوہ ہرچہ وخرچہ بھی حاصل کرنا چاہتا ہو تو صارف اپنی درخواست محض دو روپے کورٹ فیس اور بیان حلفی کے ساتھ کورٹ میں دائر کرائے خرید کردہ چیز کی رسید حاصل کردہ سروس سے متعلق کاغذات اگر ہوں تو درخواست کے ساتھ لگانا ضروری ہے ۔