Home » Article » داستان ظلم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

داستان ظلم۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

ہمارے ہاں گنگا الٹی بہتی ہے مگر ہم قناعت پسند واقع ہوئے ہیں ہم اس خوش فریبی میں مبتلا رہتے ہیں کہ گنگا بہتی توہے بے شک الٹی ہی سہی۔ شکر ہے یہاں صرف گنگا ہے جمنا نہیں، وگرنہ الٹا جمنا بہت سی پیچیدیگیوں کا باعث ہوتاہے۔ دنیا بھر کے تمام ممالک میں ادارے لوگوں کی خدمت کے لئے بنائے گئے ہیں وہ لوگوں کو سروسز مہیا کرتے ہیں ہمارے ملک کے ادارے لوگوں پر حکمرانی کرنے کے لئے بنائے گئے یا بن گئے ہیں۔ ہر ادارہ عوام الناس کواپنے پنجہ استبداد میں جکڑے ہوئے ہے ۔پٹواری ایسی شخصیت ہے جس سے زمیندار تو کیا زمین بھی پناہ پنانگتی ہے۔ تھانیدار دہشت کی علامت ہے شائد ان کے اختیارت کے باعث ہی دیہی علاقوں کی خواتین لوگ گیتو ںمیں انہیں موضوع بحث بناتی ہیں جیسے ،،دوروں دوروں اکھیاں مارے منڈا پٹواری دا،، ،،سدھ پٹواری نو جند تیرے ناں لاواں،، ،،چٹی گھوڑی تک کاٹھی تلے دار نی سیو، دوروں تکاں تے لگے تھانیدار نی سیو،،۔ ان دونوں شخصیات کے علاوہ ہر ادارہ عوام الناس پہ حکمرانی کرتاہے ۔ واسا، گیپکو، سوئی گیس، میونسپلٹی اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس سب کے سب اپنے جبڑے کھولے غرا رہے ہیں اور عوام الناس میں سے ہر روز کوئی نہ کوئی ان کا لقمہ اجل بن جاتاہے۔ پٹرول، بجلی، گیس کے نرخوں نے الگ پریشان کررکھاہے۔ میں جب کچہری سے چھٹی کرکے گھر پہنچتا ہوںجس دن گھر میں داخل ہوتے ہی یوٹیلٹی بل پر نظر پڑ جائے یقین مانیے نصف بھوک ختم ہو جاتی ہے زندگی گزرنے کو تو گزرہی جاتی ہے اگر دیکھا جائے تو زندگی بہت مشکل ہے۔ ہم جس ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں ہمارا اب کچلر بن گیاہے کہ جینے کے لئے مرنے کی ضرورت ہے، مرتبے کے لئے عزت کی ضرورت ہے عزت کے لئے روپے چاہئیے روپے حاصل کرنے کے لئے مقابلہ ہوتاہے۔ مقابلے میں جھوٹ بولنا پڑتاہے غداری کرنا پڑتی ہے رشوت لینا پڑتی ہے دوسروں کی خوشیاں چھیننا پڑتی ہیں۔ دوسرو ںکی خوشیاں چھین کر آپ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ اگر تم احمق ہو تو دنیا تم پر ہنسے گی عقلمند ہو تو حسد کرے گی اگر الگ تھلگ رہے تو تمہیں چڑچڑا اور مغرور کہے گی اگر مل کر رہنے کی کوشش کی تو تمہیں خوشامدی کہے گی۔ دولت کو سوچ سمجھ کر خرچ کیا تو تمہیں کنجوس کہے گی فراخدل ہوئے تو آوارہ اور بیوقوف کہے گی۔ اگر زمانے کے سرد گرم سے محفوظ رہنے کی کوشش کی تو تمہیں پسماندہ ذہنیت کا مالک کہا جائے گا ۔ غرض کوئی تمہیں کسی حال میں جینے نہ دے گا۔ عمر بھر نہ کوئی تمہیں سمجھ سکے گا نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ تم ہمیشہ تنہا رہو گے حتی کہ ایک دن چپکے سے رخصت ہوجاؤ گے۔ یہاں سے جاتے ہوئے تم حیران ہوگے کہ یہ عجیب تماشہ ہے کہ لوگ کیوں رو رہے ہیں اب اس تماشے کی کیا ضرورت ہے لیکن اس وقت تم حیران رہ جاؤ گے جب تم یہ سنوگے کہ لوگ تم سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ابھی تو ہمیں تمہاری ضرورت تھی اور تم تو بہت نیک تھے اور رونے دھونے سے فارغ ہوتے ہی جائیداد کے تنازعات پر لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں گے۔ بات دور نکل گئی بات ہورہی تھی اپنے سرکاری اداروں کی جن کی کارکردگی تو نہ ہونے کے برابر ہے مگر ہمارے لئے وبال جان بنے ہوئے ہیں ایسی ہی ایک داستان محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن گوجرانوالہ نے رقم کی ہے۔ جنہوں نے پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لئے ایک مکان کومکینوں سمیت سیل کردیاشائدیہ اپنی نوعیت کاپہلا واقعہ ہے مکان تو سیل ہوتے رہتے ہیں مکین سیل ہونے کا یہ انوکھا واقعہ ہے ڈسٹرکٹ اینڈسیشن جج گوجرانوالہ کے پاس متاثرہ شہری نے درخواست دی کہ میں کرائے کے مکان میں رہتا ہوں اور اس مکان کے مالک کے ذمہ پراپرٹی ٹیکس ہے جو مالک مکان نے جمع نہیں کرایا۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے میری بیوی بچو ںکو گھر میں محبوس کردیاہے مکان سیل کردیاہے۔ ایکسائز انسپکٹروں کو منت سماجت کی گئی کہ گھر میںتین خواتین اور چھ بچے ہیں لیکن ایکسائزانسپکٹروں نے اس فارمولا کے تحت ایک نہ سنی کیونکہ قانون اندھا ہوتاہے۔ ڈسٹرکٹ جج کے حکم پر بیلف نے چھاپہ مار کر خواتین اور بچو کو رہائی دلوائی۔ پہلے بیلف تھانوں میں چھاپے مار کر تھانے میں محبوس لوگوں کوبرآمد کیا کرتا تھا اب بیلف کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے اس کے اختیارات کی حدیں وسیع ہو کر تھانوں سے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے عملہ کی کارستانیوں تک پہنچ گئی ہیں۔ معصوم بچوں کو برآمد کرکے عدالت میں پیش کردیاگیا۔ وہ معصوم بچے ضرور سوچتے ہوں گے کہ ان کاقصور کیاہے اور ان ایکسائز انسپکٹروں کوپولیس انسپکٹر لگادینا چاہئیے تاکہ وہ مزید بہتر کارکردگی کا نمونہ پیش کرسکیں اور ہمارے حکمران اور ادارو ںکے سربراہ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے دوسرے ممالک سے اپنا موازنہ کرکے دوسرے ملکوں میں اسی ایشو پر جو نظام رائج ہوتاہے اس کی مثال دے کر پہلو تہی کرتے ہیں آج ہمارے محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے ارباب اختیار سیکرٹری ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور وزیر ایکسائز اینڈٹیکسیشن اپنے دفاع میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے عملہ نے تو بچو ںکو ان کے گھروں میں محبوس کیاان کے گھر کوسیل کیا جبکہ امریکہ میں 13 سے 15 سال تک کی عمر کے بچے قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ 9400 بچے ایسے ہیں جنہیں عمر قید کی سزا دی گئی ہے اور یہ 9400 بچے وہ ہیں جو ابھی 13 سال کی عمر کو نہیں پہنچے اور جن دہشت گردو ں کوامریکہ نے مختلف ملکوں سے گرفتار کیاہے ان میں سات سال کے بچے بھی شامل ہیں جو کہ بچوں کے بین الاقوامی کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے اگر امریکہ جیسے ملک کا یہ حال ہے تو ہمارے ہاں تو بہت بہتر نظام ہے ۔ ہم نے بچوں کو گھر میں محبوس کرنے والے اپنے انسپکٹروں کوسخت وارننگ دی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات رونما نہ ہوں اور یہ زبانی جمع خرچ کرکے لوگوں کو مطمعن کردیا جائے تا تاہم عورت اور بچوں کو گھر میں سیل کردینے کے اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کسی مہذب شہر،مہذب محکمہ مہذب آفیسر کو یہ زیب نہیں دیتا اور ظلم وجبرکبھی مظلوم میں یہ جذبہ بھی پیدا کردیتاہے کہ وہ کسی مصلحت کوخاطر میں نہیں لاتا اور انتقام بن جاتاہے اورجبر کو دعوت دیتے ہوئے کہتا ہے۔
مصلحت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے