Home » Article » ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد

ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:ڈاکٹر سید سجاد

گنج بخش ؒ، فیض عالم ، مظہر نورِ خدا ، ناقصاں لاپیر کامل ، کا ملاں لا رہنما
یہ شعر معرف صوفی بزرگ حضرت خواجہ معین الدین ؒ نے حضرت علی ہجویری ؒالمعروف داتا گنج بخشؒ کے مزار مبارک کے سامنے ایک ٹھڑی میں چالیس دن تک اعتکاف کرنے کے بعد اپنی زبان مبارک سے ادا کیا اور لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شعر داتا گنج بخش کی وجہ شہرت بنا ، اس کے بعد خواجہ معین الدین چشتی ؒ نے راجپوتانہ کے صحرا میں جا کر دینِ اسلام کی تبلیغ کی آپ کامزار مبارک اجمیر شریف میں مرجع خلائق بنا ہو اہے ، گنج بخش کی صفت خدائے وحدہ لا شریک کی ذات سے وابستہ ہے ، آپ اپنی کتاب ،، کشف الدسرار میں تحریر فرماتے ہیںکہ ،، اے علی!خلقت تجھے گنج بخش کہتی ہے اورتو ایک دانہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتا ، اس بات کا خیال ہرگز اپنے دل میں نہ لانا ورنہ محض دعویٰ اور غرور ہو گا ، گنج بخش تو اللہ تعالیٰ ہے اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ورنہ تیریزندگی تباہ ہو جائے گی ، بے شک وہ اکیلا خدا ہے جس کا کوئی شریک نہیں ،، یہ لقب آپ کی زندگی میں بھی مشہور تھا ، خواجہ غریب نواز کا لقب پانے والے خواجہ معین الدین چشتیؒ نے بھی اسی لقب کا استعمال کیا ، حضرت علی ہجویری سن 400ہجری میں پیدا ہوئے ، نام علی کنیت ابوالحسن اور عرفیت داتا گنج بخش ہے ، آپؒ کا آبائی وطن غزلی ہے ، اس کے قریب جوار میں آپ کا خاندان قیام پذیر تھا بعد میں غزنی کے قریب ہی ایک علاقہ جلاب تھا ، بعد میں آ پ کا خاندان وہاں آگیا ، آپ کے والدِ گرامی کا نام عثمانی جلابی مشہور تھا ، روحانی تجربات درتزکیہ نفس کیلئے آپ بغداد ، طبرستام ۔ فراستان ، کرمان، ماورالہز، شام ، عراق اور ترکی کی سیاحت کے دوران اولیائے کرام اور صوفیائے عظام سے فیض حاصل کیا ، اپنے استاد محترم و مرشد ابوالفضل غزنوی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے لاہور تشریف لائے ، اپنے دوسرے بھائیوں حضرت ابو سعیدؒ اور سید لطفی ؒ کے ہمراہ لاہور میں داخل ہوئے اور دریائے راوی کے کنارے رات بسر کی ، صبح اس طرف چلے آئے جہاں آپ کا روضہ مبارک ہے ، وہاں آپ نے ایک چھوٹی سی مسجد تعمیر کروائی بعض علماء نے مسجد کی سمت پر اعتراض کیا کہ سمت کعبہ کی طرف نہیں ہے ، آپؒ نے علمائے لاہور کو اکٹھا کیا اور فرمایا کہ دیکھیں کعبہ نظر آرہا ہے یا نہیں ؟ چنانچہ سب نے اپنی آنکھوں سے کعبہ دیکھا اور حضرت علی ہجویری کے کمالات کے قائل ہو گئے ، آپ نے کشف المجوب ، کشف الاسرار ، منہاج الدین اور دیوان علی تصنیف فرمائے ،آپ کا سلسلہ نسب آٹھ واسطوں سے حضرت علی ؑ سے جا ملتا ہے ،سید علی ہجویری بن سید عثمان غزنوی بن سید علی بن عبدالرحمٰن بن ابوالحسن علی بن حسن اصغر بن سید زیدبن امام حسنؓ بن حضرت علیؑ ، آپ فقہی اعتبار سے منفی المذہب تھے ، آپ کا سلسلہ طریقت نوواسطوں سے حضرت علی سے جا ملتا ہے آپ ؒ نے 19اصغر 465ہجری میں وفات پائی مخدوم علی ہجویری حضرت شیخ ابوالفضل غزنوی کے خلیفہ تھے ، شیخ ابوالفضل حضرت علی حضرت مسکی ؒ کے مرید تھے ، حضرت مکی حضرت ابوبکر شبلیؒ سے بیعت تھے وہ حضرت جنید بغدادی ؒ سے بیعت تھے ، حضرت بغدادی ؒ خواجہ سری سقطی کے مرید تھے اور خواجہ سقطیؒ خواجہ معروف کرفی ؒ سے بیعت تھے ، خواجہ کرفی ؒ نے حضرت داؤد طائیؒ کے دست حق پرست پر بیعت کی تھی ، حضرت طائی کے مرشد خواجہ حبیب عجمیؒ تھے، خواجہ حبیب عجمیؒ خواجہ حسن بصریؒ کے مرید تھے ور خواجہ حسن بصریؒ کے مرشد سید علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ تھے ، ( بشکریہ شاہکار اسلام انسائیکلو پیڈیا ) سید قاسم محمود ) سید علی عثمان ہجویریؒ جیسی بلند یا یہ ہستی کے مزار انوار پر دہشت گردی ؟ ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ بزرگان دین کے مزارات ، مساجد اور عبادت گاہیں بھی دہشتگردی کا نشانہ بن رہی ہیں ، کتنے معصوم بے گناہ عقیدتمند زائرین جو وہاں جا کر یا الہٰی میں مشغول ہو کر دنیا کی پریشانیون سے چند لمحوں کیلئے جان چھڑا کر خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے ہیں اور عبادت کرتے ہوئے ذہنی آسودگی اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں ان کے خون سے اس عبادت کرتے ہوئے ذہنی آسودگی اور سکون قلب حاصل کرتے ہیں ان کے خون سے اس عبادت گاہ کے درودیوار کو رنگین کر دیا ، مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں نہیں ہے یہ دشمن جان لیں ایک دن ضرور رنگ لائے گا اور عالم اسلام کے دشمنوں کے عزائم یقیناً خاک میں ملیں گے انہیں ہزیمت اٹھانا پڑے گی ،،کس کے ہاتھ یہ اپنا لہو تلاش کروں ،، ہمارے ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر ایک دوسرے پر الزام تراشی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں دیکھیں گولڈ میڈل کا حقدار کون بنتا ہے ، انٹیلی جینس اداروں کو اگر 5دن پہلے اس دہشت گردی کی لہر کا علم ہو گیا تھا تو حفاظتی اقدامات کیوں نہیں کیے گئے ؟ جبکہ اسلم ترین صاحب نے اپنی نا اہلی کا اقرار بھی کیا ہے ، ہمیں خود سوچنا ہو گا ، عملی طور پر اپنے گردوپیش پر نظر رکھتے ہوئے چوکس رہنا ہو گا ، تجزیہ کرنا ہو گا کہ نا اہلی اور لاپرواہی کیوں بڑتی گئی ؟ اس کا جواب شاید کوئی بھی نہیں دے گا کیونکہ غیر ملکی آقا ناراض ہو جائیں گے ، دماغ کی کھڑکیاں کھول کر ذہنوں پر جمی دھول کو صاف کر کے ہمیں تجزیہ کرنا ہو گا کہ صیہونی طاقتیں اپنی جنگ ہمارے سر تھوپ رہی ہیں عراق میں کیا ہوا ؟ کتنے دھماکے خون ریزی ہوئی ، کتنے لال بچے یتیم ، خواتین بیوہ ہوئیں وہ کس حالات میں زندگی گزار رہے ہیں ؟ ملکی نظام درہم برہم ہو گیا کچھ بھی نہ بچا ، افغانستان میں کیا ہو رہا ہے ؟ گیارہ ہزار کنیٹر کہاں گئے ؟ ان میں کہا تھا ؟ کہیں اسلحہ اور گولہ بارود تو نہیں تھا جو دہشتگرد تنظیموں میں تقسیم کیا گیا ؟ روس افغانستان سے ذلیل و خوار ہو کر بھاگا ، ملک کے ٹکڑے ہوئے ، اب امریکہ بھی بھاگے گا ، اس کے دانت بھی کھٹے ہو رہے ہیں ،ان کے بیانات سے اس بات کا اظہار ہو رہا ہے کہ وہ جنگ ہار گئے ہیں ، انہیں ویت نام سے بھی ذلت کے سوا کچھ نہ ملا تھا ، وہ اپنی جنگ ہمارے سر تھوپ رہے ہیں اور ہمارے لیڈر نورا کشتی کرتے ہوئے چین کی ہنسی بجارہے ہیں جبکہ عوام پر مہنگائی کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیںاپنے بچوں کا قتل کر رہے ہیں کیا کسی اسلامی معاشرہ میں اس کا تصور کیا جا سکتا ہے ؟ ہم نام کے مسلمان سب برائیوں کو اپنائے ہوئے ہیں ، رمضان المبارک کی آمد ہے ہم ذخیرہ اندوز ہیں چینی کا بحران پیدا کر دیا گیا ہے ہر چیز کا ریٹ بڑھ گیا ہے رمضان المبارک میں خوب منافع کمائیں گے ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں نا کام ، مجسٹریٹ صاحب کسی محلے کا چکر لگاتے ہیں چند دوکانداروں کو جرمانے کرتے ہین گراں فروشی پر ، لیکن اگلے دن پھر اسی ریٹ پر گاہک خریداری کرنے پر مجبور ہیں ، حکومت کے ریونیو میں اضافہ تو ہو جاتا ہے لیکن اوا شدہ جرمانے کی رقم اسی دن سے ریٹ میں مزید اضافہ کر کے گاہکوں سے وصول کر لی جاتی ہے کیا کبھی دوبارہ مجسٹریٹ صاحب نے وہ علاقہ چیک کرنے کی زحمت کی ، یقیناً نہیں ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ حضرت داتا گنج بخش سید علی عثمان ہجویری ؒ کے مزار مبارک پر دھماکوں نے عوام کو ہلا کر رکھ دیا ہے ، مذہبی منافرت کی باتیں ہو رہی ہیں ، فرقہ واریت کو ہوا دی جارہی ہے ، خدا وند کریم دشمنوں کے عزائم سے ہمیں محفوظ رکھ اور ہمیں سوچنے کی صلاحیت عطا فرما ،آمین