Home » Article » سلسلہ سیفیہ کے سربراہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :ڈاکٹر غلام مرتضیٰ محمدی سیفی

سلسلہ سیفیہ کے سربراہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :ڈاکٹر غلام مرتضیٰ محمدی سیفی

مجدد دوراں ، قیوم زماں ، حضرت خندزادہ ، پیر سیف الرحمٰن مبارکؒ آستانہ عالیہ فقیر آباد ( لکھو ڈیرہ) لاہور،
مورخہ 27جون 2010بروز اتوار بقضائے الٰہی انتقال فرما گئے ،اِنا لِلہ واِنا لیہِ راجعون
آپکی رحلت اُمت مسلمہ بالخصوص سلسلہ سیفیہ کے ویریں سالکین کیلئے ایک عظیم سانحہ ہے ایسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی نماز جنازہ میں شمولیت کیلئے تقریباً تمام ممالک سے وانشوروں علماء مشانح ویریں نے سخت گرمی کے باوجود شرکت کی نماز جنازہ میں لاکھوں لوگ موجود تھے ہر شخص کی آنکھوں میں آنسو اور چہرے صدمے سے مر جھائے ہوئے تھے آپؒکے محبوب اور منظور نظر خلیفہ حضرت پیر میاں محمد صنفی سیفی آستانہ عالیہ راوی ریان شریف جس طرح صدمہ میں نظر آئے وہ بیان نہین کیا جا سکتا ، ،، حالات زندگی،، اہم گرامی ، آپؐکا اسم گرامی سیف الرحمٰن لقب اخوند زادہ مشہور القابات پیر ارچی ، خراسانی مبارک سرکار تھے ، آپکے والد گرامی کا نام شیخ اسلام بزرگوارشیخ اسلام حضرت علامہ قاری محمد سرفراز خان جو افغانستان کے مشہور عالمِ دین اور قاری قرآن تھے ، آپکی ولادت افغانستان کے ایک گاؤں بابا کُلی میں ہوئی جو جلال آباد کے جنوب میں تعیم ، ابتدائی تعیلم اپنے والد گرامی سے حاصل کی مزید تعلیم کیلئے آپ ؒ نے ہندوستان پاکستان کا رخ آپؒ نے علوم 16بڑے نقلیہ و عقلیہ کے تمام علوم ، ترجمہ قرآن مجید و تفسیر ، علم صرف و سحرعلم فقہ ، اصول علم معاجی وبیان علم ریاضی و تاریخ علم حکمت و فلسفہ علم منطق و عقائد علم تفسیر ،اصول تفسیر علم حدیث و اصول حدیث میں استفادہ اور مکمل دستبرس حاصل کی بیعیت ، علوم ظاہر کے بعد علم بالحن کے حصول کیلئے آپ ؒ نے شیخ المشائخ مولا نا شاہ رسول طالقانی ؒ کے دست اقدس پر بیعت فرمائی لیکن مولا نا شاہ رسول طالقانی ؒ کی وفات کے بعد آپ ؒ آپکے خلیفہ مولانا ہاشم سمنگانی سے چاروں سلسلہ پائے نقشبندیہ چشتیہ ، قادریہ سروریہ میں خدمت حاصل کی ، دعوت وتبلیغ ، آپ ؒ نے سنت بنوی ﷺ پر عمل کرتے ہوئے آپ ؒ نے دعوت تبلیغ کا سلسلہ و مثبت ارچی سے شروع فرمایا ایک خوبصورت مسجد تعیمر فرمائی اور بغیر اجرت کے امامت و خطابت شروع فرمائی اور ساتھ ساتھ درس نظامی کے اسباق کا اجزاء فرمایا اور ابتدائی کتب سے لے کر آخر تک آپ قدس سرہ خود درس و ترریس کی تعلیم دیتے اور ساتھ کھیتی باڑی سے سلسلہ معاش بھی جاری رکھا ، پاکستان آمد جب افغانستان کے حالات نا خوشگوار ہو گئے تو آپ ؒ نے پاکستان کی طرف ہجرت فرمائی اور پشاور کے علاقہ باڑہ نے پاکستان کی طرف سے ہجرت فرمائی اور پشاور کے علاقہ باڑہ کھجوری منڈیکس میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا آپ کی توجہات اور نگاہ سیفیہ کی برکات سے کڑورڑوں لوگ سلسلہ سیفیہ میں داخل ہوئے آپ کی محفل میں راہزن ، ڈاکو ، زانی ، شرابی آتے تو آپ ؒ کی توجہ فرماتے تو لوگ برائی چھوڑ کر نبی کریمؐ کی سنت پر عمل کرنے لگے اور ہر وہ دل ہر وقت اللہ کے ذکر مشغول ہو جاتا آپؒ جس کی طرف نگاہ کرتے اُس پر و جدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے دل اللہ کا ذکر کرنے لگتا ، لاہور آمد چند سال قبل آپؒ نے سر زمین لاہور کو زینت بخشی اور فقیرآباد دلکھو ڈیرہ درس و تدریس کا سلسلہ جاری فرمایا بڑھاپے اور علامت کے باوجود آپؒ مسجد میں با جماعت نماز ادا فرماتے اور نبی کریمﷺ کے غلاموں کو خوب نگاہوں سے جام پلاتے یہی وجہ ہے کہ ہرمرید دوسرے سے بڑھ کر محبت کرتا ، وہ ادائے دلبری ہو کر نوائے عاشقانہ، جو دلوں کو فتح کر ے وہی فاتح زمانہ ، آخر کا اُمت علم کا درد رکھنے والے یرضائے مورخہ27جون2010ء بروز اتوار کو وفات پا گئے اِنا لِلہِواِنا لہ راجعون