Home » Article » ایسے میں مفاہمت کا جذبہ کیا کرے!!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سجاد احمد

ایسے میں مفاہمت کا جذبہ کیا کرے!!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سجاد احمد

جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان غیرسنجیدہ سیاسی رویوںٗ حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت کے فقدان اور تنقید برائے تنقید سے پہنچتا ہےٗ بدقسمتی سے یہی وہ نکتہ ہے جو وفاقی حکومت کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے قائد نواز لیگ میاں نواز شریف فراموش کرگئے۔ قومی سطح کی سیاست میں برداشت کا عنصر جہاں رہنماؤں کے قد کاٹھ میں اضافہ کرتا ہے وہاں قومی مسائل کے حل کی امیدیں بھی روشن سے روشن تر ہونے لگتی ہیں تاہم اگر یہ عنصر مفقود ہونے لگےٗ لب و لہجے میں بیگانگی در آئے اور اپنا فیصلہ کرنے کی دھمکی آمیز صورت درپیش ہو تو ایسے میں مفااہمت کا جذبہ کیا کرے تاہم یہ بات لائق تحسین ہے کہ بے جا تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود وفاقی حکومت کا ردعمل مثبت اور مفاہمانہ رہاٗ چارج شیٹ میں وفاق کی علامت صدر مملکت آصف علی زرداری کی ذات کو بالواسطہ طور پر ہدف بنایا گیا لیکن ان کی کشادہ جبیںپر کوئی شکن نمودار ہوئی نہ دوستانہ مسکراہٹ نے ان کا ساتھ چھوڑاٗ حکومت کے سربراہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی اپنے روایتی تحمل کے باعث قائد نواز لیگ کے ناگوار اور نامناسب طرز عمل پر لب کشا نہ ہوئے۔چند ارکان پارلیمنٹ کی جعلی ڈگریوں کے معاملے کو جس غلط انداز میں اچھالا گیا اس کا کوئی جواز نہیں تھاٗ یہ قانون ایک آمر نے بنایا تھاٗ پورے سات برس تک کوئی ڈگری چیلنج ہوئی نہ ہی میڈیا کے نزدیک یہ قانون کوئی اہم ایشو قرار پایاٗ جمہوریت بحال ہوئی تو موجودہ حکومت نے آمرانہ قانون منسوخ کردیا آمریت کے زیرانتظام الیکشن میں حصہ لینے کیلئے اگر کسی نے بی اے کی جعلی ڈگری جمع کرائی تھی تو یہ اس وقت الیکشن کمیشن کاکام تھا کہ وہ ان کی چھان بین کراتاٗ ان ارکان کو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سمیت کسی سیاسی جماعت کی قیادت نے یقینا ایسی کسی غلطی کیلئے نہیں کہا ہوگا پھر اس ایشو پر تمام ارکان پارلیمنٹ کی تضحیک اورمذمت کا کیا جواز؟ سیاست چمکانے کیلئے بڑی کمزور بنیاد تلاش کی گئی۔ اب مثال کے طور پراگر کسی ایک جج کاطرز عمل عدالتی ضابطہ اخلاق کے خلاف ہو تو کیا اس بنیاد پر یہ جائز ہوگا کہ عدلیہ کے تمام جج صاحبان کی مذمت کی جائے!!قائد نواز لیگ کو ایک قومی سیاسی رہنما کی حیثیت میں اس بات کا بخوبی اندازہ ہونا چاہئے کہ پارلیمان اور عدلیہ اہم ادارے ہیںٗ ان دونوں اداروں کے ارکان میں سے چند ایک کا انفرادی عمل ان اداروں پر تنقید کا جواز فراہم نہیں کرتا لیکن قابل اعتراض عمل کا ارتکاب کرنے والے ارکان تنقید کا نشانہ بنیں تو یہ ہرگز نامناسب نہ ہوگاٗ اس حوالے سے قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ اگر تنقید کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو اس سے نہ صرف ادارے کمزور بلکہ اس طرز عمل سے ایسے افراد کے حوصلے بڑھیں گے اور پھر ردعمل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ میاں نواز شریف نے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت کو رگڑا لگاتے ہوئے انصاف کے تقاضوں اور حقائق کو دانستہ طور پر نظرانداز کیاٗ سچ تو یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں موجودہ حکومت سے بڑھ کر کوئی حکومت عدلیہ کی تابع فرمان نہیں آئیٗ اس حکومت سے قبل عدلیہ کا کیا حال تھا اگر میاں صاحب کو یاد ہو! جس حکومت نے ججوں کو قید سے رہائی دلائیٗ انہیں ان کے اعلیٰ مناصب پر بحال کیاٗ وفاقی وزراء عدالتوں میں حاضری کو عار نہ سمجھیںٗ ریاستی معاملات اور حکومت کے انتظامی اختیارات میں مداخلت کے باوجود عدلیہ کا احترام برقرار کھا جائے ایسی حکومت کو یکطرفہ طور پر تنقید کا نشانہ بنانا صریحاً ناانصافی ہے۔جمہوریت کے حامی ہونے کے باعث میاں نواز شریف کا ملک میں بڑا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ یہ بڑی قربانیوں کے نتیجہ میں بحال ہوئی ہےٗ ایک ایسی پیچیدہ صورتحال جس میں ریٹائرڈ ایئرمارشل اصغر خان کیس سولہ برس سے زیرالتواء ہوٗ منی لانڈرنگ کیس سمیت کئی مقدمات انصاف کا منہ دیکھنے کی حسرت لئے فائلوں کے انبار تلے دبے ہوئے ہوں وہاں ایک منتخب جمہوری حکومت کو عدالتی فیصلوں پر من وعن عملدرآمد پرمجبور کرنے کیلئے چاہے آئین اس کی اجازت نہ بھی دیتا ہو میاں صاحب کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کو کیا نام دیا جائے !!قائد نواز لیگ ایک سیاسی رہنما کی حیثیت میں کیا اس بات سے اتفاق فرمائیں گے کہ حج صاحبان کا سیاسی بیانات اور مخصوص معنی خیز تبصروں کے ذریعے اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بننا بالکل مناسب نہیں! اور جب ایسا ہو رہا ہو تو میاں صاحب کا ردعمل کیا ہونا چاہئے! ججوں کے فیصلے ان کی غیرجانبداریٗ آئینی تقاضوں اور دیانتداری کا مظہر ہونے چاہئیں اور اگر حج صاحبان سیاسی بیانات دیں تو اس پر ردعمل ظاہر کرنا سیاستدانوں کا حق ہے۔