Home » Article » گفتار کے غازی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

گفتار کے غازی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مہر محمد امین

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بہتر دین اسلام ہے مگر یہ بات بڑی حیران کن ہے کہ جو دین سب سے بہتر دین ہے جو دین اللہ کو پسند ہے وہ آج کس حالت زار میں ہے اس دین کے پیروکار دنیا میں پریشان حال اورذلیل ورسواء کیوں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے نام نہاد ملاؤں اور پیروں نے توڑ مروڑکر پیش کیاہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم سرکار دو عالمﷺ کے نام نہاد امتی ہیں ہماری حالت کیاہے ہمارا کردار کیاہے۔ جھوٹ ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت ہمارا وطیرہ بن چکاہے اور انسانیت کو ہم نے چھوڑ دیاہے۔ سب سے پسندیدہ عمل اللہ کے نزدیک انسانوں سے محبت کرناہے اللہ اس شخص کو بہت پسند کرتے ہیں اس شخص سے محبت کرتے ہیں جو اس کی مخلوق سے محبت کرتاہے۔ ابراہیم بن عدم نے ایک فرشتہ دیکھا جو کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا ابراہیم عد م نے فرشتے سے پوچھا یہ آپ کیا کررہے ہیں اس نے جواب دیا کہ میں اللہ سے پیار کرنیوالے اللہ سے محبت کرنے والے لوگوں کی لسٹ بنا رہا ہوں آپ نے کہا دیکھو ان میں میرا نام بھی کہیں ہے اس نے لسٹ دیکھ کر کہا نہیں۔ابراہیم بن عدم کہنے لگے اگر اس لسٹ میں نہیں تو تم میرا نام اس لسٹ میں لکھ لو جو اللہ کی مخلوق سے پیار کرتے ہیں اس فرشتے نے نام لکھ لیا۔ چند دنوں بعد دہ دوبارہ نظر آیا اورلسٹ بنا رہاتھا ابراہیم بن عدم نے پوچھا یہ کیاہے کہنے لگا یہ ان لوگوں کی لسٹ ہے جن سے اللہ پیارکرتا ہے آپ نے پوچھا دیکھو میرانام بھی ہے اس فرشتے نے کہا ہاں تمہارا نام ٹاپ پہ ہے سرفہرست ہے۔ آج ہم نے انسانیت سے پیار کرنا چھوڑ دیاہے۔ آج خود کش حملہ آور ایک لمحے میں انسانیت اور انسان کی دھجیاں اڑا دتیے ہیں۔ آج ہماری سوچ کا محور پیسہ ہے آج ہم اللہ کی مخلوق کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیاہے مگر جو ہمارے ملک میں نا انصافی ہے ظلم وجبر اور بربریت ہے وہ اللہ کے غضب کو دعوت دے رہی ہے مسلم ممالک کے سربراہان کی اکثریت طاقت کے زور پرغیر منصفانہ اورغیر جمہوری طریقوںسے وجود میں آئی ہے اور جو شخص خود ظلم کرکے اقتدارمیں آئے اس سے انصاف کی کیا توقع ہوسکتی ہے اور آج دنیا ہمارے اس کردار سے ہم سے نفرت کرتی ہے۔ جب ہم اسلام پر قائم ہی نہیں رہے تو اس کے ثمرات کیسے حاصل کرسکتے ہیںاور اللہ کے نزدیک آج بھی بہترین دین اسلام ہے مگر ہم منافق ہیںمنافقت سے لیبل اسلام کالگائے پھرتے ہیں اور کردار اس کے برعکس ہے۔ تھانوںمیں رشوت نہ لینے کا حلف اٹھایا جاتاہے مگرانصاف کو مصلحتوںکی بھینٹ چڑھادیا جاتاہے تھانوں میںوہی کلچر وہی سسٹم رائج ہے مگر اخبارات میں شہ سرخیوں سے رشوت نہ لینے کا عزم دہرایا جاتاہے۔ ہسپتالوں میں ظلم ہے، عدالتوں میں نا انصافی ہے، سرکاری دفاتر میں ظلم پہ مبنی نظام، اس کی وجہ کیاہے وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی خواشوں کے غلام بن گئے ہیں۔ علماء ظاہر، مولوی حضرات اور عام پیر گدی نشین جن میں اکثریت خواہش نفس کے گرفتار لوگوں کی ہے یہ اپنی خواہشوں کے تابع ہو گئے ہیں ان کے پاس صرف زبانی گفتگو ہے عمل نہیں اور ہمارے جیسے عام لوگوں کا کوئی کردار ہی نہیں ہم نہ کووں میں نہ ہنسوں میں ہمیں سیدھی راہ بھی سجائی نہیں دیتی۔ پیر اپنی بڑائی بیان کرتے ہیں کہ میں بہت نیک ہوں، پہنچا ہوا ہوں جو میری خدمت کرتاہے مراد پاتا اور مولوی صاحب کہتے ہیں جو میری خدمت کرے اور میرے مدرسے کو چندہ دے اس کی دنیا اوردین سنورجائے گا لیکن ہم شک ویقین کی سرحد پر کھڑے سوچ رہے ہیںکہ کس طرف رجوع کریں لیکن خود بھی ریسرچ نہیں کرتے۔ اللہ بار بار دعوت دیتے ہیںکہ غور و فکر کرو اللہ ریسرچ کی دعوت دیتے ہیں ہم خود بھی یہ کام نہیں کرتے ہم نے یہ کام مولویوں اور پیروں کو سونپ دیاہے اور وہ ہمیں گلے لگانے میںبہت فراخدل ہیں دونوں ہی ہمیں اپنانے کے لئے بیتاب رہتے ہیں دونوں میں سے کوئی نہیں کہتا کہ تم نے دوسرے کا حق کھایاہے فلاں پہ ظلم کیاہے کسی کو دھوکہ دیاہے پہلے اس کاحق واپس کرو اس کو راضی کرو جس پر ظلم کیاہے اس سے معافی مانگو پھر میرے پاس آؤ۔ دونوں ہم سے نہیں پوچھتے جو پیسہ تم نے ہمیں دیاہے یہ حرام کی کمائی ہے یا حلال کی کمائی ہے وہ قبول کرلیتے ہیں یہی وجوہات ہیں آج ہم دنیا میں ذلیل ورسوا ء ہیں۔ ہمارا معاشرہ ظلم پہ مبنی ہے ہمارا نظام نا انصافی پہ مبنی ہے اور ہم گفتا رکے غازی بنے ہوئے ہیں دین اسلام پہ بحث کے لئے ہمارے پاس دولت بھی ہے علم بھی ہے عمل نہیں ہے اور ہم اپنی نفسانی خواہشوں کے تابع ہیں اپنی خواہشات میںگرفتارہیں آج علماء بھی خواہش نفسانی میں اورپیر گدی نشین بھی خواہشوں کے تابع ہیں دونوں کے پاس زبانی گفتگو ہے عمل نہیں۔ اسی لئے علامہ اقبال نے فرمایاہے۔
صوفی کی طریقت میں فقط مستی احوال
ملا کی شریعت میں فقط مستی گفتار
وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھ کو
ہو جس کی رگ و پے میں فقط مستی کردار