Home » Article » ماں رب کا روپ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:پیر محمد اشرف شاکر

ماں رب کا روپ ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:پیر محمد اشرف شاکر

انسان رشتوں کے ساتھ دنیا میں تقریباً ہر قسم ناطے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے چنانچہ اکثر رشتدار مفاد کے طور پر انسان کے ارد گرد گھومتے ہیں مگر وفا دارو مخلص اور پاکیزہ ماں کا رشتہ ہے اس کا نعمل بدل خالق نے بنایا ہی نہیں جس طرح حقیقی خالق اپنے بندوں سے پیار کرتے ہوئے بے شمار ایسے طریقہ کار بنائیں ہیں جس سے بندے کے گناہ معاف ہوتے ہیں تا کہ انسان جنت کا حقدار بن جائیں ، اسی طرح مجازی خالق ماں کا دل بھی چاہتا ہے کہ میرا بیٹا سردگرم ہواؤں سے محفوظ ہو کر اور ہر قسم کی تکلیفوں سے دور رہے کر دنیا و اخرت میں راحت و چین پائے رب ذولعطاء اپنے بندوں کے ساتھ مخلص ہیں اور ماں بھی اپنی اولاد کے لیے مخلص ہوتی ہے اس لیے کہتے ہیں ماں رب کا روپ ہے ، جب ماں زندہ ہوتی ہے ، تو ہم کوئی بھی کمی محسوس نہیں کرتے جب یہ گھر چھوڑ کر ظاہری پردہ فرما کر قبرستان کو اپنا مسکن بنا لیتی ہے تو پھر قدم قدم پر ان کی یاد ستاتی ہے یہ تو کوئی سید محمود الحسن شاہ صاحب سے پوچھے کہ ماں کی جدائی سے دل پر کیا گزرتی ہے شاہ صاحب محکمہ پولیس میں امانت و دیانت کے ساتھ بطور ڈی ایس پی لیگل گوجرانوالہ میں اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کو فیض یاب کر رہے ہیں ، چنددن قبل سید محمود الحسن شاہ صاحب کی والدہ محترمہ ( جنت مکانی) ان کو چھوڑ کر خدا لم یزل کے پاس چلی گئی ، جب سے یہ رشتہ پردہ میںمٹی کے نیچے چلا گیا تو قبل شاہ صاحب اور ان کے بھائی بے چین سے زندگی بسر کر رہے ہیں ان کی والدہ ماجدہ تو گاؤں کے لیے رحمت تھی ، کسی کو، کوئی تکلیف یا مشکل ہوتی تو فوری طور پر قبلہ شاہ کی والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور ان سے دعا کراتے اللہ رب العزت اس سید ذادی کی دعا ،لاڈلی محمد مصطفیٰؐ حضرت ظاہرہ ؑ پاک کے وسیلہ سے قبول فرماتے اور اہل گاؤں روحانیت سے فیض یاب ہوتے تھے ، انہوں نے گاؤں کی بے شمار بچیوں کو قرآن پاک کی تعلیم دی ، ہمشاء اسلامی طرزو طریقے کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین فرماتی ، خاص کر اپنی اولاد کی تربیت اسلام کی روح کے مطابق کی جس کی جھلک ان کے لاڈلے بیٹے سید محمود الحسن شاہ کے روپ میں دیکھ سکتے ہیں ، قبلہ شاہ صاحب محکمہ پولیس میں افیسر ہونے کے باوجود نرم مزاج با اخلاق ، علمی وادبی شخصیت ہیں ، ان کے آفس آنے والا سائل کبھی خالی نہیں جاتا ، مظلموں اور زمانے کے ستائے ہوئے لوگوں کی داد رسی کرتے ہیں۔ سائلین کے لیے ان کے آفس کا دروازہ صبح آٹھ بجے سے لیکر رات آٹھ بجے تک کھلا رہتا ہے ، غریب یتیم ، مسکین ، خاص کرسادہ لوح انسان جس کی کوئی سفارش نہیں ہوتی شاہ صاحب ایسے لوگوں کا،کام کر کے دلی خوشی محسوس کرتے ہیں اور ساتھ دعا بھی دیتے ہیں ، محکمہ پولیس کے یہ وہ سٹار ہیں جو حسد ، بغض ، نفرت، غرور ، تکبر ، خود پسندی کو قریب تک نہیں پھڑکنے دیتے ، یہ سب کچھ ماں جی کی تربیت کا اثر ہے سید محمود الحسن شاہ صاحب اگر آج عزت و شہرت کی بلندیوں پر ہیں تو سب صدقہ آل نبیؐ و اولادِ علیؑ اور والدہ محترمہ کے قدموں کی طفیل ہے آخر کار وہ وقت قریب آگیا جس سے کوئی مرسل و پغمبر بھی نہ بچ سکا جس کو قدرت نے موت کانام دے رکھا ہے ،شاہ صاحب کی والدہ محترمہ اپنی اولاد کو ہمیشہ کے لے جدائی کا داغ دے گی رشتدار عزیز و اقارب تعزیت کے لیے ان کے آبائی گاؤں کیرانوالی ضلع گجرات پہنچ گئے ، چونکہ راقم کی سید محمود الحسن صاحب سے کافی یاد اللہ ہے علمی ادبی سماجی حوالے سے پیار بھری ان سے گفتگو ہوتی رہتی ہے خاکسار ان کے غم میں شریک ہونے کے لیے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا تعزیت کے لیے ڈی ایس پی فیض احمد رانجھا ، انسپکٹر ہاشم علی گجر ، محکمہ پولیس کے دیگر ساتھیوں کے علاوہ ، مریدین دوست عقیدت مندوں کا ہجوم تھا لوگ دور دراز سے فاتحہ خوانی کے لیے آئے ہوئے تھے سید محمود الحسن صابر و حوصلہ مند ماں جی کے فرزند ہیں دل کے اندر ماں جی کی جدائی کا گہرہ زخم تھا چنانچہ تعزیت کے لیے آنے والوں سے پوری ہمت و استقامت کے ساتھ ملتے تھے مہمانوں کے لیے بہترین اور وسیع لنگر کا انتظام تھا ہر آنکھ اشکبار تھی ، خاص کر محلہ کی عورتیں جنہوں نے ماں جی سے دینی تعلیم حاصل کی وہ رو رہی تھی پڑوس رہنے والے اس نیک سیرت سید ذادی خاتون ماں جی کی جدائی پر آنسو بہا رہے تھے خدالم یزل قبلہ شاہ صاحب کی والدہ محترمہ ،،جنت مکانی،، کو جنت میںعرفا مقام عطاء فرمائیں اور ان کی آل اولاد کو صبر جمیل کی دولت سے نواز دے ،آمین،