Home » Article » اس ،ڈرامے ،کا مقصد کیا ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید احمد علی رضا

اس ،ڈرامے ،کا مقصد کیا ہے؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سید احمد علی رضا

حکومت پاکستان نے کی طرف سے اٹارنی جنرل مولوی انوارالحق نے سپریم کورٹ کو اس امر سے آگاہ کیا ہے کہ صدر زرداری پر قائم سوئس مقدمات ختم ہو چکے ہیں لہذا انہیں دوبارہ کھولنے کیلئے سوئس حکام سے خط و کتابت کا کوئی جواز نہیں۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔اس سلسلہ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ عدلیہ عوام کو انصاف کی فراہمی کے لئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور سپریم کورٹ اپنے فیصلوں پر ہر صورت میں عملدرآمد کرائے گی ۔دوسری جانب وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اگر ملکی اداروں میں تصادم ہوا تو کچھ نہیں بچے گا۔
قارئین۔۔۔
بلاشبہ ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرکے ہی سسٹم کی بقا و استحکام کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے اور قائد و اقبال کی خواہشات کے مطابق اسے جدید اسلامی فلاحی جمہوری معاشرے کی جانب گامزن کیا جا سکتا ہے جس میں لوگوں کی جان مال اور عزت و آبرو کا ہی تحفظ نہ ہو ہر قسم کی بے انصافیوں کا بھی خاتمہ ہو جائے قومی اور قدرتی وسائل کی غیرمساویانہ تقسیم کا کوئی تصور نہ رہے اور قانون آئین اور انصاف کی حکمرانی میں کسی فرد واحد کیلئے سیاہ و سفید کا مالک بننے کی گنجائش نہ رہے۔ جمہوری رویوں کی عملداری و پاسداری اور جمہوریت کے استحکام سے ہی سسٹم کیخلاف سول و خاکی بیوروکریسی کی سازشوں ،اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں اور طالع آزما جرنیلوں سمیت ہر قسم کے آمروں کا راستہ ہمیشہ کیلئے روکا جا سکتا ہے۔ جرنیلی آمروں کے ہاتھوں منتخب جمہوری نظام کو بار بار لگنے والے دھچکوں کے تلخ تجربات کے تناظر میں ہی عوام نے 18 فروری 2008 کو اپنے ووٹ کی طاقت سے خاموش انقلاب برپا کرکے مشرف کی جرنیلی آمریت اور اسکی باقیات کو اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکالا اور سلطانی جمہور کی راہ ہموار کی۔جرنیلی آمریتوں کے ہاتھوں ملک و قوم کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان (جس میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ بھی شامل ہے) کے پیش نظر ہی عسکری اور سیاسی قائدین جمہوریت کی بقا و استحکام کے عہد پر کاربند ہیں اور اس کیلئے فکر مند بھی رہتے ہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سلطانی جمہور کی معانت کی اپنی آئینی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن)کے قائد میاں نواز شریف موجودہ منتخب وفاقی حکمرانوں کے ہاتھوں عوام کے گوناں گوں مسائل حل نہ ہونے اور ان مسائل میں اضافہ کے باوجود سسٹم کی بقا کی خاطر ان حکمرانوں کیلئے بھی ڈھال بنے ہوئے ہیں اور فرینڈلی اپوزیشن کا لیبل اپنی سیاست پر لگوا چکے ہیں جبکہ جرنیلی آمر کی سزا بھگتنے والے چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری بھی اپنے عدالتی فرائض کی ادائیگی کے دوران گاہے بگاہے باور کراتے رہتے ہیں کہ عدلیہ سسٹم کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دیگی اور اسے مستحکم بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریگی۔ ملک میں جمہوریت کے استحکام کیلئے اتنی سازگار فضا پہلے کبھی قائم نہیں ہوئی تھی اور اگر حکمران پیپلز پارٹی خود بھی جمہوریت کی عملداری کے تقاضے پورے کرتے ہوئے موجودہ سسٹم میں فرد واحد کی حکمرانی کے تصور کو زائل کر دے آئینی اداروں بالخصوص عدلیہ کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسکے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور آئین و قانون کی حکمرانی کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دے تو ملک میں طالع آزمائی پر مبنی جرنیلی آمریت کا راستہ ہمیشہ کیلئے اور مستقل طور پر بند کرنے کا یہی بہترین وقت ہے۔ جمہوریت کیلئے ان سازگار حالات کے باوجود اگر جمہوریت کی کشتی ہچکولے کھاتی نظر آتی ہے اور آئے روز غیرجمہوری ماورائے اقدام کا خدشہ لاحق ہو جاتا ہے تو پیپلز پارٹی کی حکومتی سیاسی جماعتی قیادتوں کو سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہئے کہ سلطانی جمہور کے ثمرات اب تک کیوں عام آدمی تک نہیں پہنچ پائے اور جمہوریت کے استحکام کی منزل اب تک کیوں حاصل نہیں ہو سکی۔ اس سلسلہ میں حکومتی اکابرین کو سوچنا چاہئے کہ کہیں انکے اپنے رویوں کی وجہ سے تو اداروں کے ٹکراؤں کی فضا پیدا نہیں ہو رہی اور جمہوریت کی گاڑی کے ٹریک سے اترنے کا خدشہ لاحق نہیں ہو رہا؟موجودہ حکمرانوں کے اقتدار کے گزرے دو سالوں کا جائزہ لیتے ہوئے جمہوریت کیلئے فکر مند حلقوں کو بجا طور پر تشویش لاحق ہوتی ہے کہ سلطانی جمہور کیلئے نہ صرف عوام کے مینڈیٹ کے احترام کے تقاضے پورے نہیں ہورہے بلکہ جرنیلی آمر کے اقدامات ، پالیسیوں اور باقیات کو برقرار رکھ کے سلطانی جمہور کا مینڈیٹ دینے والے عوام کو اس سسٹم سے متنفر کرنے کیساتھ ساتھ سسٹم کی بقا کی خاطر سول حکمرانی کی معاونت کرنے والی عسکری اور سیاسی قیادتوں کو بھی بدگمان کیا جارہا ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ جرنیلی آمریت کے پیدا کردہ گھمبیر عوامی مسائل کے حل اور کرپشن کلچر کے گند کی صفائی کیلئے عدلیہ کی آزادی کی موجودہ فضا سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا اور کسی حکومتی ریاستی کل پرزے کو قانون، آئین اور انصاف کی عملداری کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جاتا مگر حکمران طبقہ نے اپنی ماضی کی بدعنوانیوں کو تحفظ دینے اور موجودہ اور ممکنہ مستقبل کی بدعنوانیوں کو بھی جوابدہی کے دائرے سے باہر رکھنے کیلئے نہ صرف عدالتی فیصلوں کے احترام اور ان پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا بلکہ اپنے رویوں سے اداروں کے ٹکراؤ کی ناگوار اور تشویشناک فضا بھی پیدا کی جا رہی ہے۔ صدر اور وزیراعظم کی جانب سے عدلیہ کے احترام کے دعوے بھی کئے جاتے ہیں اور ججز کیس ،بنک آف پنجاب کیس،سوئس کیسز سے این آر او کیس کے فیصلہ تک کسی بھی عدالتی فیصلہ کو نہ صرف لاگو کرنے سے گریز کیا جارہا ہے بلکہ ان فیصلوں پر عملدرآمد کی راہ میں رکاوٹیں بھی پیدا کی جا رہی ہیں جس کے باعث چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری کو باور کرانا پڑا کہ عدالتی احکام کا مذاق اڑانے والے قانون کے شکنجے میں آئیں گے اور سلاخوں کے پیچھے جائیں گے۔ چاہئے تو یہ تھا تاکہ عدالتی فیصلہ کو من و عن تسلیم کر کے اس پر بلا روک ٹوک عملدرآمد کروا کر انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے مگر نہ صرف یہ قانونی اور اخلاقی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ آئینی تحفظ کا سہارا لے کر صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں مقدمات کی بحالی کیلئے حکومتی سطح پر رجوع ہی نہیں کیا گیا جس کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں واضح ہدایات دی ہوئی تھیں۔ فاضل عدالت کی بار بار کی ہدایات کے باوجود سوئس عدالتوں میں صدر زرداری کیخلاف مقدمات دوبارہ کھلوانے کیلئے عملا کوئی پیش رفت نہ کی گئی جس کیلئے کبھی صدر کے آئینی استثنی کا جواز پیش کیا جاتا اور کبھی وفاقی سیکرٹری قانون رخصت پر چلے جاتے۔ حکومت کے ان تاخیری حربوں کی وجہ سے ہی سابق اٹارنی جنرل انور منصور کو مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد قائم مقام اٹارنی جنرل بھی سبکدوش ہو گئے جبکہ نئے اٹارنی جنرل جسٹس(ر)مولوی انوارالحق نے اس کیس میں عدالتی معاون بننے کے بجائے حکومتی موقف کی وکالت شروع کر دی ۔ اٹارنی جنرل کا موجودہ موقف عدالتِ عظمی کے فیصلہ پر عملدرآمد سے سیدھا سیدھا انکار اور یہ پیغام ہے کہ عدالت نے جو کرنا ہے کرلے حکومت این آر او کیس کے فیصلہ کو لاگو کریگی نہ لاگو ہونے دیگی۔ دوسری جانب وفاقی سیکرٹری قانون عاقل مرزا نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کچھ عرصہ سے علیل ہیں اور اپنا علاج کرانا چاہتے ہیں۔ ان پر کوئی سیاسی یا عدالتی دبا ؤنہیں۔ وہ آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے رہے ہیں۔ آئین و قانون کے منافی کوئی کام نہیں کیا اور نہ ہی وزارت میں اپنے حکام یا وزیرقانون سے تعلقات خراب تھے۔لیکن بعض سیاسی مبصرین وفاقی سیکرٹری قانون عاقل مرزا کے اپنے عہدے سے استعفی کو حکومت کی عدالتی محاذآرائی کے سلسلہ کی کڑی گردانتے ہیں۔ان کے مطابق استعفی کی ایک بنیادی وجہ این آر او کیس پر دبا ؤبھی ہوسکتا ہے۔ان کے مطابق عاقل مرزا نے حکومت اور عدلیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے پیش نظر حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کرکے استعفی دیا ہے۔ وہ اس بات پر سخت خفا تھے کہ اٹارنی جنرل نے سوئس عدالت کو خط لکھنے کے متعلق جو موقف پیش کیا اس کی نہ تو ان سے اجازت لی گئی نہ ہی انہیں اعتماد میں لیا گیا جس پر حکومت نے انہیں بائی پاس کرتے ہوئے اپنا موقف اختیار کیا۔
قارئین۔۔۔
حکومت اس حوالے سے جو بھی موقف اختیار کرے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ این آر او کے حوالے سے سوئس کیسز کے مقابلے میں جن اہم شخصیات کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑے ان میں سابق اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ، سابق پراسکیوٹر جنرل نیب ڈاکٹر دانشور اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان شامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ صورتحال حکومت اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کے جس تاثر کو سامنے لا رہی ہے اس پر عوام کی پریشانی ایک فطری امر ہے کیونکہ معروضی حالات اور زمینی حقائق حکومت اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی نہیں بلکہ مفاہمت اور اشتراک و تعاون کا تقاضا کرتے ہیں۔ گزشتہ عرصے میں ایسا دیکھنے میں آیا کہ موجودہ حکمران پہلے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور آخر میں سرنگوں ہوجاتے ہیں۔آئین کے تحت کسی بھی عدالتی فیصلہ کو لاگو کرانے کی ذمہ داری سٹیٹ مشنری بشمول حکومت سے منسلک متعلقہ اداروں اور افواج پاکستان سمیت پوری انتظامی مشینری پر عائد ہوتی ہے اور عملدرآمد سے انکار یا پس و پیش توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے جس پر عدالت متعلقہ ادارے یا شخصیت کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لانے کی مجاز ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے این آر او کیس کے فیصلہ کی روشنی میں سوئس مقدمات دوبارہ کھلوانے سے انکار کیا جا رہا ہے اور اس کیلئے کوئی قانونی تقاضہ پورا نہیں کیا گیا تو اس سے یہی سمجھا جائیگا کہ حکومت اپنے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہے۔ یہ صورت حال بلاشبہ اداروں کے ٹکراؤ کی راہ ہموار کرنے والی ہے جو لازمی طور پر سسٹم کے لپیٹے جانے پر منتج ہوسکتی ہے۔اس وقت قوم کی امید عدلیہ ہی سے ہے کیونکہ وہ عوامی مفادات اور ملکی سلامتی کے مسائل پر مسلسل نوٹس لے رہی ہے۔عدلیہ عوامی تحریک کے نتیجے میں آزاد ہوئی ہے۔عدلیہ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے اسلام آباد میں عوام کی طاقت کو مجتمع کرنے کا اعلان بھی کیا ہوا ہے۔مہنگائی بیروزگاری بدامنی اور دہشت گردی کے ساتھ ساتھ حکومت کی بدترین طرزِ حکمرانی نے قومی بحران کی شدت میں اضافہ کردیا ہے۔وفاقی حکومت نوشتہ دیوار کو پڑھنے کے بجائے چند افراد کے مفادات کے تحفظ کے لیے سیاسی نظام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔عدلیہ کے محاذ پر حکومت مسلسل پسپائی کا شکار ہے کیونکہ وہ آئین و قانون اور قواعد و ضوابط سے مسلسل انحراف کررہی ہے۔اب سیاسی حکومت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا نعرہ اس کے کام نہیں آئے گا۔ صدر یا وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کی حکومت کے ترجمان مسلسل یہ دعوی کررہے ہیں کہ وہ عدالتِ عظمی میں اپنا قانونی موقف پیش کررہے ہیں اور عدلیہ سے ان کے ٹکرا ؤکا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن حکومت کا عمل اس کی تصدیق نہیں کررہا ہے۔یہاں تک کہ اب خود پیپلزپارٹی کے داخلی حلقوں میں بھی تنقید شروع ہوچکی ہے اور بغاوت کی آوازیں آنی شروع ہوگئی ہیں ۔ آخر حکومت کے اس ،ڈرامے ،کا مقصد کیا ہے؟اگر تو پیپلز پارٹی کے حکومتی اور جماعتی قائدین نے بطور پارٹی پالیسی، دمادم مست قلندر ،کا فیصلہ کرلیا ہے تو یہ الگ بات ہے جس میں انہیں ،شہید جمہوریت، بننے کا شاید ہی موقع مل پائے گاتاہم اگر حکومت عوام کی منشا ء کیمطابق بحال ہونیوالی جمہوریت کی بقاء و استحکام میں مخلص ہے اور آئین و قانون کی حکمرانی چاہتی ہے تو پھر اسے عدلیہ کے احترام کے تمام تقاضے پورے کرنا ہونگے اور این آر او کیس کے فیصلہ سمیت تمام عدالتی فیصلوں پر انکی روح کیمطابق عملدرآمد کرانا ہو گا ۔بصورت دیگر حکومت تصادم کی راہ اختیار کریگی جسکے نتیجہ میں جمہوریت کی گاڑی بھی ڈی ٹریک ہوتی ہے اور جرنیلی طالع آزما غیرجمہوری عناصر کو جمہوریت کی بساط الٹانے کا بھی موقع ملتا ہے تو حکومت کسی صورت اسکی ذمہ داری سے خود کو نہیں بچا سکے گی۔ آخر ہمارے سیاسی قائدین یہ طعنہ ہی کیوں سنتے رہنا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت چلانے کے اہل نہیں اور انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔