Home » Article » پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار کے لئے را حاضر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مستقیمہ بیگم

پاکستان میں فرقہ وارانہ انتشار کے لئے را حاضر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:مستقیمہ بیگم

03343375249
برصغیر کا خطہِ لاہورسندھ کے بعد دوسرااہم مقام ہے جہاں اسلام نے اپنے قدم سب سے پہلے جمائے تھے۔یہ غزنویوں کے دور حکومت کی بات ہے جب لاہور بت شکنوں کا دارلحکومت اور اسلام کا نیا نیا مرکزبنایا گیا۔اس دور میں خطہِ لاہورپر ایسی شخصیت نے اپنے قدم رکھے جس نے یہاںپر علم وعرفان کے دریا بہا دےئے۔افغانستان کے شہر غزنی کے محلے ہجویر کے سید عثمان کے ہاں 1009ء میں پیدا ہو نے والی اُس بزرگ ہستی کا نام سید علی ہجویری تھاجو داتا گنج بخش کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ آپ نے حصولِ علم کی خاطر کئی ملکوں کے سفر کئے بہت سے شہروں کی خاک چھانی ، مدائن، بغداد، کوہستان،آزر بائیجان،طبرستان، خوزستان اور ماورا ا لنہر کے نامور علماء و مشائخ سے اکتابِ علم کیا۔ غزنی واپس پہنچے تو مرشد نے حکم دیا کہ علی تم لاہور تشریف لیجاؤ ہونہار شاگرد نے جواب میںکہا کہ وہاں تو پہلے ہی حسین زنجانی موجود ہیں جو لوگوں کا تذکیہِ نفس کرنے میں مصروف ہیں اور لوگوں کو حق کی طرف بلا رہے ہیں، میرا وہا جانا کارگر نہ گا؟تاہم مرشد کی طرف سے پھر حکم ملا کہ تم لاہور جاؤ!جب علی ہجویری لاہور پہنچے تو صبح ہی صبح ایک جنازہ جا رہا تھا جس کے ساتھ خاصی خلقت تھی۔جن کی اکثریت بہت زیادہ غم سے نڈھال دکھائی دیتی تھی۔معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ حسین زنجانی کا جنازہ ہے۔جس پر آپ بھی غم ذدہ ہوگئے اور مرشد کے حکم کی مصلحت کو اچھی طرح سے سمجھ گئے۔ شیخ اکرام رقم طراز ہیںکہ مختلف اسلامی ممالک کے (سفر اور اکتسابِ علم کے)بعد سلطان مسعود ابنِ محمود غزنوی آخری عہدِ حکومت میںاپنے دوساتھیوں کے ہمراہ لاہور تشریف لائے۔یہاںآپ نے ایک مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا…جہاں درس وتدریس کا سلسلہ جاری کیا۔کہا جاتا ہے کہ اسی دوران آپنے کئی کتابیں بھی تصنیف کیں آپ کی تصانیف میں سب سے زیادہ مشہور تو کشف المحجوب ہے جس کا پہلا ترجمہ اس کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر پرفیسر نکلسن نے کیا۔ جس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ شرک و بدعت کے شدید مخالف تھے۔ اس کے علاوہ کشف الاسرار،البیان لاہل عیان اورمنہاج الدین جیسی بہترین کتب شامل ہیں ۔ان کی تصا نیف شیخ شہاب الدین سہر وردی کی عوارف المعاروف اور ابنِ عربی کی فصوص الحکم سے پہلے تحریر کی گئیںتھیں۔داتا صاحب کی تصانیف میں غلو یا نیم پختہ عقائد و خیالات نہیں ملتے ہیں۔آپ نے قرآن و سنت سے ہٹ کر کوئی بات کی ہی نہیں۔کشف المحجوب کا اصل نسخہ فارسی زبان میں ہے جو آج بھی ماسکو کی لائبریری میں دیکھا جاسکتا ہے کہا جاتا ہے کہ جب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ہندوستان تشریف لائے توسب سے پہلے آپ کے مزار پر حاضر ہوے اور اہل اﷲکے طریقے کے مطابق یہاں پر عبادت و ریاضت میں وقت گذارا اور چالیس دن تک یہاں پر ربِ کائنات کی عبادت کی جس کے نتیجے میں وہ روحانی طور پر بہت فیضیاب ہوے۔جب آپ لاہورسے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوے تو داتاصاحب کی شان میں یہ معروف شعر ارشاد فرمایا۔ 
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
نا قصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما 
داتا صاحب کی تعلیمات اسوہِ رسول کے مطابق تھیںشیخ اکرام کا قول ہے کہ جب داتا گنج بخش(موجودہ )پاکستان آئے اُس وقت تصوف اپنی تاریخ کے دوسرے دور سے گذر رہا تھا…تصوف میںبعض نئی اور غیر اسلامی چیزیںداخل کردی گئی تھیں …مگر داتا صاحب تو شرح واصول دین پرپوری طرح عامل تھے۔انہوں نے اپنے زمانے کے بعض صوفیوں کے بارے میں (کشف ا لمحجوب)میں تحریرکیاہے کہ ،جو شخص تحقیق اور توحید کے خلاف چلتا ہے اس کو دین میں کچھ نصیب نہیں ہوتاہے۔اور جب دین جو اصل ہے مضبوط نہ ہو تو تصوف جو اس کی شاخ ہے کس طرح مضبوط ہوسکتا ہے؟ جس وقت آپ لاہور تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ حکومت تو مسلمانوں کی ہے مگر پورے شہر کا چلن غیر اسلامی ہے ۔ اس کیفیت کے پیشِ نظر آپ نے تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کر دیا۔تو دور دراز سے لوگ آپ کی نصیحت و وعظ سننے کے لئے آنا شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے لاہور اسلامی تہذیب کا اصل گہوارا بن گیا۔بہت بڑی تعدا میں غیر مسلم اسلام کا حصہ بننا شروع ہوگئے۔آپ نے لاہور میں اپنی زندگی کے چالیس سال لوگوں کا تذکیہ نفس کیا اور1072 میں آپ اس دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے۔ آپ نے رائے راجو جیسے متکبر ہندو کو مسلمان کیا۔ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی رقم طراز ہیں کہ آپ کے مریدوں میں ایک سید احمد بھی تھے جو سلطان سخی سرور یا لکھ داتا کے نام سے مشہور ہیں۔سخی سرور سلطان کا شمار بھی پنجاب کے مشہور بزرگوں میں ہوتا ہے۔علی ہجویری داتا گنج بخش بر صغیر کے علماء و صوفیا میں ایسی شخصیت کے مالک ہیں جو مسلمانوں کے کسی بھی فرقے میں متنازعہ نظر نہیں آتے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کون بد بخت ہیں جو بزرگان دین کے مزارات تک کو نہیں بخشتے ہیں۔جہاں پر لوگ اپنا فرسٹریشن مٹانے کی غرض سے آتے ہیں، اور ان پہلے سے پریشان حال لوگوں کے لہو سے اپنے آقاؤں کے حکم پر ہولی کھیل کر اپنی عاقبت تباہ کرنے کا مہنگا سودا کر لیتے ہیں۔جیسا کہ ہر پاکستانی جانتا ہے کہ جمعرات کی شب تین خود کش حملے داتا دربار کے مختلف حصوں میں ملعونوں نے کر کے 50 کے قریب بے گناہوں کو ابدی نیند سلا دیا۔ اور 75 کے قریب لوگوں کو زخمی کر دیا۔ جس میںبتایا جاتا ہے کہ بھارت کیساتھ سرحدی گاؤں کے لوگ ملوث پائے گئے ہیں۔تو یقیناًاس میں بھارت کی انوالمنٹ کو مسترد نہیں کیا جاسکتاہے۔جو اجمیر شریف پر ان کے اپنے دہشت گردوں کی کا ر وائی کا بدلہ پا کستان سے اس نداز میں لے رہا ہے۔ بھارت ہمارا پڑوسی ہونے کے باوجود ہمارا دشمن نمبر ون بھی ہے۔کونسا ایسا ہمارا معاملہ ہے جس میں را ملوث نہیں ہوتی ہے؟فرقہ وارانہ انتشار کے لئے را حاضر ہے۔پاکستا ن میں علاقائی اور لسانی تعصبات کو ہوا دینے میں بھارتی ایجنسیاںبڑی تیزی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں۔ہمارے ہاںمذہبی تعصبات اور ان تعصبات کو ہوا دینے والوں کی بھی کوئی کمی نہیںہے۔ان میں زیادہ تر شیطانی خو کے وہ نام نہاد علماء شامل ہیںجن کا پیٹ یا تو امریکہ بھر رہا ہے یا بھارتی ایجنسیا ںیا ان جیسے کوئی اور۔ وہ پیدا کردہ بھی ان ہی آقاؤں کے ہیں۔یہ مذہب کی ٹھیکیداری کے بھی دعویدار ہیں،زکلیں علماء کی اور کام سیطانوں کے۔یہی لوگ جہلا کی نمائندگی کے بھی دعویدارہیںدراصل بھارت اور امریکہ ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ کر نے کے لئے ہر وہ حربہ استعمال کر رہے ہیں جس کے ذریعے ہم ٹوٹ پھوٹ کاشکار ہوجائیں سامراجی قوتیں اس ملک کو ایک لمحہ بھی برداشت کر نے کیلئے تیار نہیں ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امہ کے اتحاد کو پارہ کرنے کے لئے یہ ہر حساس معاملہ پر کاروائیاں کرتے دیکھی جاسکتی ہیں ۔چاہے مساجد پر حملے ہوں یا جنازوں پرپاکستان کی ایجنسیز کے دفاتر ہوں یا کھیل کے میدان اور چاہے بزرگوں کی خانقاہیں اور پر امن مزارات ہوں جہاں پہنچ کرلوگ روح اور قلب کی بے چینی مٹاتے ہیں ۔ یہ درندے انسانی خون بہانے سے کہیں بھی دریغ نہیں کرتے ہیں۔اور پھربلوں سے وہ متعصب چہرے نمودار ہوتے ہیں جو اپنے مسلکی مخالفین پردشنام طرازی کے دریا بہانا شروع کر کے ملک میںمذہبی اور فرقہ وارانہ انتشار پید ا کرانا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔حالانکہ ہر مکتبہ فکر اس المناک واقعہ سے دل گرفتہ ہے۔ ہر مکتبہ فکر اس واقعے کی دل کی گہرائیوں سے مذمت کرتا ہے۔اس نازک موقعے پر علمائے کرام کا فرض بنتا ہے کہ مسلکی منافرت پھیلانے والوں کی بھر پور مذمت کریں اور ان کالی بھڑوں کے سوتوں کو ختم کر نے کی کوشش کریں۔جو وطن عزیز کو آئے دن خون میں نہلاتے رہتے ہیں۔اس وقت وطنِ عزیز کوجس قدر اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔یہ بات ہمارے ذہنوں میں رہنی چاہئے کہ کتنے ہی برے عقیدے کا کوئی مسلمان ہو وہ ایسی قبیح حرکت نہیں کر سکتا، کہ بے گناہوںکوبلا سبب ہلاکتوں میںڈال دے جبکہ رسو ل اﷲ ﷺ کا فرمان ہے جس نے ایک بے گناہ کو قتل کیا اُس نے گویا خانہ کعبہ کو ڈھا دیا۔بے گناہوں کے تمام قاتل بلا شبہ جہنمی ہیں۔