Home » Article » حکومت کشمیر پالیسی واضع کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سیداحمد علی رضا

حکومت کشمیر پالیسی واضع کرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:سیداحمد علی رضا

دنیا کے نقشے پر ریاست جموں و کشمیر کی حیثیت متنازعہ ہے اور یہ کسی نسلی، مذہبی اور علاقائی اعتبار سے متنازعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جس کے سیاسی مقدر کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔سال 2009 اپنے ساتھ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے لئے چند دھندلی سی امیدیں لے کر آیا۔اگر چہ2008 ء کے وسط میں بھی عوامی سیلاب کے سڑکوں پر امڈ آنے سے اندرون ریاست دو دہائیوں پر محیط تحریک آزادی میں پہلی مرتبہ کشمیریوں کو ڈرائیونگ سیٹ حاصل ہوتی ہوئی نظر آتی تھی لیکن سال کے اختتام تک پھر وہی ناامیدی اور مایوسی کے مہیب سائیے تحریک آزادی کشمیر پر پڑچکے تھے۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران جنوبی ایشیا میں امن کو مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط کیا تو بھارتی وزیراعظم کے سکیورٹی ایڈوائزر ایم کے نارائن نے اوبامہ کے اس نظریے کی مخالفت کی کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں کی صورتحال مسئلہ کشمیر سے منسلک ہے۔اپنے دورہ بھارت میں برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے بھی بھارت کی سرزمین پرکشمیر کومتنازعہ مسئلہ قرار دیکر اس کے پرامن حل پر زور دیا جس پر بھارت نے ناک بھوں چڑھائی اور ملی بینڈ کے خلاف وزیراعظم من موہن سنگھ نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کو خط بھی لکھا جس میں ملی بینڈ کے رویے کو قابل اعتراض قرار دیا گیا مگر برطانیہ نے اسے اپنا موقف قرار دیکر خط مسترد کردیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن طور حل کے بغیر نہ تو خطے میں کشیدگی کم ہوسکتی ہے اور نہ ایٹمی جنگ کے خطرات کو روکا جاسکتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے اس بدلے ہوئے لہجے کا اثر ہے یا جنوبی ایشیا میں بگڑ تی ہوئی صورتحال اور جنگ کے امڈتے ہوئے خطرات کا خوف کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے (ماضی کے اپنے ان بیانات کے برعکس کہ مسئلہ کشمیر دوطرفہ معاملہ ہے پاکستان اور بھارت خود حل کریں اقوام متحدہ اس میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے )یہ تسلیم کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے یہ پاکستان اور بھارت کے مابین دیرینہ تنازعہ ہے اور اس مسئلہ کو باہمی مذاکرات سے پرامن طور پر حل کرنے کے لئے اقوام متحدہ ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہے۔
قارئین۔۔۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون سے زیادہ کون اس حقیقت سے واقف ہوسکتا ہے کہ یہ دیرینہ تنازعہ گزشتہ61 سال سے سلامتی کونسل کے ایجنڈا پر موجود ہے اور بھارت خود اسے سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا اقوام متحدہ اس ایشو پر 2قراردادیں منظور کرچکی ہے جس میں جموں و کشمیر میں رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے اور بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کے علاوہ ان کے جانشین لال بہادر شاستری اور اندرا گاندھی ان قراردادوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی صرف کشمیری عوام نہیں بلکہ عالمی برادری کو کراتے رہے ہیں۔ معاہدہ تاشقند اور شملہ میں بھی اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے اور آج بھی پاکستان کا موقف یہی ہے کہ کشمیری عوام کو رائے شماری کے ذریعے دونوں ممالک میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کا منصفانہ موقع فراہم کیا جائے۔ بھارت کی طرح پاکستان نے اٹوٹ انگ کا نعرہ نہیں لگایا حالانکہ قائداعظم کے الفاظ میں کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پانی کے حالیہ بحران نے قائداعظم کے اس موقف کی اصابت اور افادیت واضح کردی ہے۔اس صورتحال میں ہماری حکومتی سیاسی قیادتوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے کہ وہ ایک تو مسئلہ کشمیر پر اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کو کسی صورت کمزور نہ ہونے دیں اور دوسرے یہ کہ وہ اپنے کسی اقدام یا پالیسی سے بالخصوص کشمیری عوام میں مایوسی کی ایسی فضا پیدا نہ کریں جس طرح جنرل(ر)مشرف کی جرنیلی آمریت کے دوران کشمیر پر نت نئے آپشن اور کمزور موقف پیش کرکے کشمیر پر پاکستان کے کلیم کو کمزور بنایا گیا اور کشمیری عوام کو ان کی جدوجہد آزادی کے ثمرات سے مایوس کیا گیا۔ پرویز مشرف مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی روڈ میپ پر عملدرآمد کیلئے وقتا فوقتا نئے نئے فارمولے پیش کرتے رہے، کبھی یونائیٹڈ سٹیٹس آف کشمیر کا فارمولا اورکبھی کشمیر کو لسانی خطوں میں تقسیم کرنے کا فارمولا۔ اگرچہ ان کے پیش کردہ یہ سارے فارمولے تحریک آزادی کشمیر کے تقاضوں کے یکسر منافی تھے۔ لیکن اس کے باوجود انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور اعلان بھی کرتے رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ طرز عمل تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف تھا۔پرویز مشرف کے جس اقدام سے تحریک آزادی کشمیر کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا وہ یہ تھا کہ انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کی قیادت میں اختلافات کو پروان چڑھایا اور اس کیلئے اپنی سرکاری حیثیت اور وسائل کا بڑی بے دردی سے استعمال کیا جس سے تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔کشمیری عوام تو درحقیقت اپنی آزادی کی ہی نہیں تکمیل پاکستان اور تحفظ پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں انکی تحریک درحقیقت تحریک الحاق پاکستان اور تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنے کی تحریک ہے جس میں ہماری جانب سے کسی بھی حوالے سے مایوسی کی فضا پیدا کرنا اس تحریک کے ثمرات کو خودہی ضائع کرنے کے مترادف ہو گا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے یہ کہنا قطعی نامناسب تھا کہ ممبئی واقعات سے مسئلہ کشمیر پس پشت چلا گیا ہے۔ درحقیقت ان خود ساختہ واقعات پر بھارت کے جارحانہ ردعمل اور بے محل واویلاسے تو مسئلہ کشمیر مزید اجاگر ہوا ۔ اور عالمی برادری کی توجہ مرکوز ہونے کے باعث اس مسئلہ کے حل کی فضا بن گئی ہے۔ اگر تو حکمران پیپلزپارٹی کی قیادت نے مسئلہ کشمیر کا حل جنرل (ر)مشرف کی پالیسی کے تحت بھارتی منشاء کیمطابق سوچ رکھا ہے تو اس حل کیلئے ممبئی واقعات اور شمالی علاقہ جات میں بدامنی کے تناظر میں مسئلہ کشمیر ضرور پس پشت چلا گیا ہوگا کیونکہ اس سے مکار بھارتی لیڈر شپ کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا ہے اور اسکے اکھنڈ بھارت والے مکروہ عزائم سے پوری عالمی برادری آگاہ ہوگئی ہے اس لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کیمطابق کشمیری عوام کا حق خودارادیت تسلیم کرانا، شاطر ہندو بنیا کے عزائم ناکام بنانے اور عالمی امن کے قیام کیلئے بھی ضروری ہے۔ اقوام متحدہ جان لے کہ پاک بھارت تعلقات کا انحصار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ تو کشمیری عوام پر بھارتی فوج کے بہیمانہ مظالم ختم ہوسکتے ہیں اور نہ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف کشمیری عوام کی جدوجہد کو روکنا ممکن ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے8 سالہ اعتماد سازی کے اقدامات صرف ایک واقعہ کے ساتھ ہی ختم ہوگئے اب بھی اگر مسئلہ کشمیر حل کرائے بغیر دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر بنانے اور کشیدگی کے خاتمے کیلئے کوئی کوشش کی گئی تو وہ عارضی اور ناپائیدار ہوگی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مشرقی تیمور کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عمل کرایا۔ وہ دارفور(سوڈان)کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کا خواہاں ہے مگر کشمیر کے بارے میں قراردادوں کو پس پشت ڈال کر خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور ایٹمی جنگ کے خطرات کو دعوت دی جا رہی ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں کو پس پشت ڈالنے کی بنا پر مسلمانوں میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ امریکہ کی طرح اقوام متحدہ بھی مسلم مفادات کے منافی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور مسلم دشمن عناصر کے مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے لہذا بان کی مون کا فرض ہے کہ وہ فی الفور سلامتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلا کر مسئلہ کشمیر کی قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے رائے شماری کے انتظامات کرائیں اور بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کرتے ہوئے رائے شماری میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالے تاکہ خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہو اور پاکستان و بھارت اچھے ہمسایوں کی طرح زندگی بسر کر سکیں۔