Home » Article » نتھو سّویا کی ڈائری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمد اسلم مانگٹ

نتھو سّویا کی ڈائری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:محمد اسلم مانگٹ

نتھو سویاگوجرانوالہ ضلع کا دور افتادہ گاؤں ہے یونین کونسل ارگن کا حصہ ہے اس یونین کونسل کے کل سات گاؤں ہیں ، نتھو سویا تاریخی گاؤں ہے اپنے اِس کی کل آبادی 6ہزار افراد پر مشتمل ہے ، یہاں بوائے سکول پرائمری 1902میں قائم ہوا ، جواب ترقی کر کے صرف مڈل سکول بن سکا ہے اور اب ہائی کا درجہ بھی حاصل کر چکا ہے 1988ء میں گرلز پرائمری سکول بنا ، وہ بھی اب ہائی سکول کا درجہ حاصل کر چکا ہے ایوب دور میں یہاں کے چوہدری مرزا خان جب بی ڈی ممبر بنے ، تو اِس گاؤں کا نام مشہور ہوا ، شروع سے یہاں ووٹ کائنگ 190رہا ، جو کہ حیران کن ہے ، اِس سے ثابت نہیں ہے ، کہ یہاں کے لوگ خاصی سیاسی سوج بوجھ رکھتے ہیں ، شروع سے یہاں کی بڑی فصلوں میں چاول اور گندم ہیں اور اب یہاں تربوز ، مٹر ، اور تِل بھی بہت وافر مقدار میں اگائے جاتے ہیں ، 2000ء سے پہلے ثرح خواندگی صرف 10فیصد تھی ، جو کہ اب 170تک پہنچ چکی ہے 90%افراد کا رزق کاشتکاری سے وابستہ ہے یہاں کے لوگ بہت محنت کرتے ہوئے اس زمین کے سینے سے بہترین اناج اگاتے ہیں ہاں کبھی یہاں کچھ جھگڑالو، لوگ بھی ہوا کرتے تھے جن کی باقیات ابھی تک موجود اپنے یہاں مقامی افراد کے علاوہ وہ لوگ بھی کافی ترقی کر چکے ہیں جو ہجرت کر کے 1947میں یہاں ہندوستان سے آکر آباد ہوئے تھے ، ان میں کمبوہ اور راجپوت برادری اکثریت میں ہے ، انہوں نے یہاں آکر یہاں کی ثقافت کو بھی اپنے رنگ میں ہوئے ہے ، اب لوگ آپس میں کافی محبت اور بھائی چارے سے رہتے ہی مہاجر اور لوکل کی لکیر ختم تو نہیں ہو گی ، اور نہ ہی آئندہ 100سال تک ہونے والی اپنے لیکن وہ کچھ ختم ضرور ہوئی ہے ، یہاں کی نہری زمینوں کو پانی نہرے ملتا ضرور ہے ، لیکن ہر جگہ بھی جو اونچی جگہ میں وہاں پہنچتا نہیں ہے یہاں پینے کا پانی انتہال صاف اور صحت مند ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ خوب صحت مند ہیں ، اب یہاں کی نسبت لڑکیوں کی تعلیم پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ، یہاں کے سپوت مدثر قیوم ناہرا کافی عرصے تک یہاں سے صوبائی اور قومی اسمبلی میں ممبرزر ہے ، اور خصوسی مشیر بھی رہے ، لیکن وہ اپنے گاؤں کو مثالی گاؤں نہ بنا سکے ، اس کا شاید اب اُن کو افسوس ہو گا ، اورعوام کو بھی مجھے امید ہے وہ خاص عوام سے اپنا رشتہ اور نبھائیں گے ، اور کامیابیاں اُن کا مقدر ہونگی،اس گاؤں کی قابل رشک ادا قابل تقلید بات یہ ہے کہ مجھے یہاں کا قبرستان دیکھنے کا موقع ملا ، تو حیرنگی کی حد تک بہترین انتظام تھا ، خاص طور پر قبرستان کے گرد دیوار تعمیر کر کے قبروں کے تقدس کو مجروع ہونے سے بچایا گیا، اور پھر وہاں گھاس جو کہ پہلے اجڑ جاتی تھی اُسے روک کر بچایا جاتا ہے ، جس کی آمدنی سالانہ ہزاروں روپے ہے ، اس آمدنی سے وہاں بہترین سہولیات کے ساتھ جناز گاہ تعمیر کی گئی ، معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ تمام کام حاجی عبدالرشید کی سر پرستی میں ہی کیا جارہا ہے جو کہ مرکزی جامع مسجد غوثیہ رضویہ کے امام بھی ہیں ، حاجی عبدالرشید صاحب تو اِس گاؤں میں خاص مقام حاصل ہے ، حاجی صاحب1977میں یہاں تشریف لائے جب جوانی کا آتش دمک رہا تھا ، اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے ، اب آپ کی عمر 60برس سے زیادہ ہے وہ اب صبح شام اس دورفتارہ گاؤں میں درس و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اب ان کا جوانی کا سورج ڈھل چکا ہے ، اب وہ بہت منج چکے ہیں ، ان کی صحت یہاں کے سب افراد کے دِل میں گھرکر چکی ہے پتہ چلا کہ وہ 1972میں عارضی طور پر یہاں آئے تھے ، صرف 2ماہ کے لیے لیکن شائد قدرت کو اور کچھ ہی منظور تھا ، وہ اپنے آپ کو نھتو سویا کی عوام کی محبت سے ہو چکے ہیں ، اور محبت کے حاِل میں یوں پھنسے کہ اب وہ نتھو سویا کی پہچان بن چکے ہیں ان کا ایک خاص کارنامہ جو مجھے بطورخاص پسند آیا ، کہ ان کی مسجد علاقے میں موجود ہے وہاں انہوں نے ایک کمیٹی بنائی ہو ئی ہے جس کا کام ہے کہ محلے میں کوئی غیر شرعی کام نہ ہو بطور خاص کسی بھی شادی بیاہ یا خوشی کے موقع پرڈھول ڈھمکا یا آتس بازی نہ ہو یا کہ دور اِس قانون پر انتہائی سختی سے عمل ہو رہا ہے جو کہ قابل تقلید ہے نتھو سویا کے عوام دعا کرتے ہیں کہ خدا ،اس کی عمر دراز کرے اور ان کو یہاں کی مزید خدمت کرنیکا موقع خدا عطاء فرمائے میں ایک بات بہت غور سے محسوس کی کہ مولانا حاجی عبدالرشید صاحب کڑ بریلوی کے عالم ہونے کے باوجود کوئی بھی غیر خری یا ایسا کام جس سے شرک اور بدعت محسوس ہو ، بالکل نہیں کرنے دیتے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر دلعزیز ہیں میں نتھو سویا میںایک بڑی میٹھی سریلی اور اللہ لوک شخصیت کا مہمان تھا ، میں نے انہیں جب سے دیکھا تھا ، ان میں جو خصوصیات ہیں ، وہ میرے سامنے عیاں نہیں تھیں ، اتفاق سے وہ شخصیت اور ہی اس علاقے کے تھانہ کوٹ لدھا میں آمنے سامنے تھے ، انہوں نے اپنے ایک رشتے دار کے خلاف درخواست دی تھی ، کہ اس نے میرا موٹر سائیکل روک کر مجھے تھپڑ مارا ہے کہ ایس ایس او نے دونوں پارٹیوں کو بلارکھا تھا ، جو تپھڑ مارنے والے نے ایس ایچ او عبیداللہ خاں کو بتائے کہ اِس بندے نے مجھے اپنے گھرمیں گالی دی تھی ، میں نے اس کا بدلہ لینا ہے تو ایس ایچ او نے جواب مانگا تو میرے دوست کو جو اب قابل غور ہے ، جس نے مجھے آپ کے گاؤں جانے پہ مجبور کیا ایس ایچ او کو بتایا گیا کہ میرا کاروبار کم از کم سات گاؤں میں پھیلا ہوا ہے میری عمر 50سال سے زیادہ ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے کوئی ایک فرد بھی یہ بات کہہ دے کہ میں نے انسان کو انسان کسی حیوان کو بھی گالی دی ہو ، تو مجھے جو بھی سزا دی جائے قرائین یہ اتنا بڑا دعویٰ تھا موجودہ دور میں کہ میںاشارہ کیا آپ کے اسی دعوے کی تصدیق کے لیے میں اس علاقے کا دورہ کیا ، تو میں حیران ہوں ،اور مجھے رشک آ رہا ہے اس آدمی پر وہ واقعی اپنے دعوے میں سچا ثابت ہوا ، اور پھر باوجود کہ ایس ایچ او خان عبیداللہ کے آپ چاہیں تو میں تادیبی کا روانی کرتا ہوں ، انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ، کہ میرے والدین کا حخم ہے میں ایسا کروں، اور میں اپنا معاملہ اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں جی ہاں اس معصوم اور سیاسی شخصیت کا نام چوہدری صٖفدر علی کمبوہ ہے میں نے آپ فیملی کے ہر ہر فرد سے ملاقات کی تو ان کی بیوی نے برملا کہا ، کہ ہاں مجھے کئی دفعہ سوپنا پڑا ، کہ آخری میری غلطی پر بھی ہے کیوں گالی نہیں دیتے اور ڈانٹتے کیوں نہیں ہاں کبھی کوئی غصہ آ بھی جائے تو خاموشی اختیار کرتے ہیں اور مسجد میں چلے جاتے ہیں واپس آتے ہیںتو نارمل ہوتے ہیں انہوں نے اپنے دوستوں کی زد لیے نتھو سویا کی ایک کمزور سی روائت سنوائی ، جو کچھ یوں ہے یہ گاؤں ایک بندے نتھو سویا کے نام سے منسوب ہے نتھو ہندو خاندان کا چشم و چراغ تھا ، جب اس کا درد اخوت ہوا تو وہ اپنی ماں کے پیٹ میں تھا ، تو نتھو کی والدہ کو بھی زندہ جلایا گیا جب آگ سے جل کر اس کی والدہ کا پیٹ پھٹا ، تو معجزانہ طور پر نتھو پیٹ سے اچھل کر آگ سے باہر جا گرااور وہ اس علاقے کے میرثیوں کے ہتھے لگ گیا ، اوراسس نے محنت کی اور خوب پرورش کی ، نتھو جوان ہوا ، تو اسے بتایا گیا کہ ہافلاں خاندان کا چشم و چراغ ہو ، تو نتھو کی فرمائش پر مراثی اسے اس کے ننہال لے گئے ، انہوں نے میراثیوں کو خوب انعام و اکرام سے نوازا،اور نتھو کی اجازت دی کہ گھوڑے پر بیٹھو اور شام تک جتنا گھوڑا دوڑا کر علاقہ جہاں تک ہو وہ تمہاری جاگیر ہو گی یوں نتھو نے جو جگہ ملی اس میں اب پانچ گاؤں آباد ہیں ،اور ان کا درا غلافہ نتھو سویا مقرر تبرم چونکہ نتھو وہاں آباد ہوا تھا ، اور نتھو کا خاندان جب تک اللہ کے فضل سے مسلمان ہو چکا تھا ، اور وہ ایمان کی حالت میں فوت ہوا ، اسی کی خبر اب بھی وہاں موجود ہے لیکن مجھے اس کی زندگی اور موت کی تاریخ یا سن نہیںمل سکا ، سینہ بے سینہ جو باتیں لوگوں کے پاس موجود ہیں ، ان کا پخوڑ میں نے آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اگر کہیں کوئی مبول رہ گئی ہو تو میں معذرت خواں ہوں کبھی زندگی میں اس خوبصورت گاؤں کا مہمان بنا تو اس میں مزید تاریخ خریدنے کی کوشش کروں گا ، اور ہاں چوہدری صفدر علی کی ایک اور خوبی مجھے وہاں جا کر معلوم ہوئی کہ وہ سچ بولتے ہیں ، کبھی جھوٹ بولنا ہی چاہیں ، تو یہ مکمل ہی ہیں نفیس رہا کاری سے خاصی نفرت ہے نتھو سویا کے عوام نے مجھے وہاں کے جوانوں کی بہادری کے جو قصے سنائے تو جی چاہتا ہے کہ پاکستان آرمی یہاں خصوصی کیمپ لگا کر علاقے کے لوگوں کو فوج میں بھرتی کرے یہاں کے لوگ ملک وقوم کی خدمت میں نئی تاریخ اور بہادری کے جو ہر دکھائیں گے ، کبھی گاؤںچوری چکاری کی وجہ سے بد نام تھا ، آج یہ گاؤں اللہ کے فضل و کرم سے اور حاجی عبدالرشید صاحب کی دن رات دینی خدمت سے لوگ اسی گاؤں کو شرفاء کا گاؤں سمجھنے پر مجبور ہیں مدثر قیوم نعرا سے درخواست کروں گا ، کہ وہ اس گاؤں کے باسیوں سے اپنا رشتہ کمزور نہ ہونے دیں ہفتے میں ایک دن ضرور یہاں آکر لوگوں سے گھر گھر جا رکر ملا کریں پھر دیکھیں محبت کیا گلِھلاتی ہے ، گاؤں کے باسیوں کے لیے میری دعا ہے کہ خدا اپنے امان میں رکھے ۔ آمین ۔