Home » Article » ڈی سی او کو پچاس ہزار جرمانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: علامہ پیر محمد اشرف شاکر

ڈی سی او کو پچاس ہزار جرمانہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: علامہ پیر محمد اشرف شاکر

ضلعی انتظامیہ کے سربراہ نبیل اعوان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے جس ضلع کا ڈی سی او غیر ذمہ دار ہو جائے اور اپنے فرائض منصبی کو بھول کر عیش و عشرت کرنے لگ جائے تواس کے زیر کنٹرول تمام ادارے غیر فعال ہو جاتے ہیں پھر عوام کو ان ارباب اختیار افسران سے انصاف نہیں ملتا ، کچھ دن قبل ایک کلرک بادشاہ نبی احمد نے کرپشن کی جس کی انکوائری ڈی ڈی او آر کے آفس میں جاری تھی کہ اس کلرک کے ساتھیوں نے بھری کچہری میں ڈی سی او کے پہلو میں ڈی او آر کے دفتر پر دھاوا بول دیا ، اس وقت ڈی سی او نبیل اعوان اپنے دفتر میں بیٹھ کر سگریٹ کے کش لگا رہے تھے تو حملہ آور اسلحہ کے زور پر سرکاری ریکارڈ اور کلرک نبی احمد کو ساتھ لے گئے ، اب ڈی سی او کاسخت امتحان ہے قارئین دیکھیں انصاف کس کو ملتا ہے؟ چونکہ اس واقع کے چند دن بعد انہوں نے تھانہ سول لائن میں حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کروادیا تھا اور ان لوگوں کو برسراقتدار سیاستدانوں نے پناہ دے دی ہے ، پولیس اور ڈی سی او سیاسی لوگوں کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں چونکہ انہوں نے اخراج مقدمہ کے لیے ڈی سی اوپر پریشر ڈالنے کے علاوہ وزیر اعلیٰ سے انکی ٹرانسفر کا مطالبہ بھی کر دیا ہے نبیل اعوان بھی ڈی سی او شپ بچانے کے لیے عدل و انصاف پر پردہ ڈال کر خاموش دیکھائی دے رہے ہیں ، ایک اور تصدیق شدہ اطلاع کے مطابق ڈی سی او نبیل اعوان نے مورخہ 13/7/10کو مسمی اعجاز احمد ، خالد الیاس کو ’’فور شڈول،،کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے جیل بھجوا دیا ، ان آدمیوں کے ورثاء محمد ارشد نے ہائی کورٹ میںبیرسٹر نبیل اعوان کے خلاف رٹ بٹیشن نمبری18129-10دائر کر دی بعدالت جسٹس فرخ عرفان صاحب نے مورخہ7/9/10کو فیصلہ سناتے ہوئے بے گناہ شہری اعجاز احمد خالد الیاس کو جیل سے آزاد کر دیا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے والے ڈی سی او بیرسٹر نبیل اعوان کو پچاس ہزار جرمانہ کیا ، اسی طرح موڑ ایمن آباد میں قبضہ گروپ کے سرغنہ اقبال عرف حورانے عرصہ دراز سے سرکاری اراضی پر قبضہ جمایا ہوا ہے شہریوں کی شکایات پر محکمہ ہائی وے نے ضلعی انتظامیہ سے مل کر آپریشن کر کے سرکاری جگہ کو خالی کروالیا چنانچہ قبضہ گروپ مافیا خاص ذریعے سے ضلعی انتظامیہ کے سر براہ تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تو انہوں نے سرکاری اراضی پر دوبارہ قبضہ کروا دیا انجمن تاجران کے رہنماؤں نے ڈی سی او کو درخواست کی کہ اس قبضہ گروپ نے دوبارہ قبضہ کر لیا ہے ، چونکہ ڈی سی او نے خود قبضہ کروایا ہوا تھا تو فوری طور پر سیخ پا ہو کر درخواست کو نظر انداز کرکے اپنے روایتی انداز کے ساتھ ٹال مٹول سے کام لیا ، وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ جس طرح محب وطن شہر کی تعمیر وترقی کا جذبہ رکھنے والے سعید احمد واہلہ کو کمشنر ڈویژن گوجرانوالہ تعینات کیا ہے، خدارہ ان جیسا ضلعی سربراہ بھی عوام گوجرانوالہ کو عنایت فرمائیں ، کمشنر صاحب شہریوں کی خدمت کرنے کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہتے ہیں اور ڈی سی او اپنے فرائض میں سست ہونے کی وجہ سے کارنر پر نظر آرہے ہیں اب پہلوانوں کے شہر میں ڈاکٹر پرویز احمد خاں جیسے مضبوط بہادر، ایماندار ، ڈی سی او کی ضرورت ہے خاں صاحب پہلے گوجرانوالہ میں اپنی خدمات سر انجام دے چکے ہیں ان میں بہت خوبیاں تھی خاص کر جن کی کوئی سفارش نہ ہوتی غریب بے بس ، بے کس زمانے کے ستائے ہوئے لوگوں کی دادرسی کے لیے رات تک آفس میں موجود رہتے تھے ڈاکٹر پرویز احمد خاں کو اس وقت تک سکون نہیں ملتا تھا جب تک وہ خدا کی مخلوق کا بھلا نہ کر لیتے تھے عرصہ گزرگیاان کی ٹرانسفر ہوئے مگر آج بھی لوگ ان کو خوبصورت لفظوں میں یاد کرتے ہیں ، موجودہ ڈی سی او نبیل اعوان لوگوں سے 9بجے سے لیکر گیارہ بجے دن تک ملاقات کرتے تھے مگر اب انہوں نے یہ ترقی کی ہے کہ گیارہ بجے کی بجائے دس بجے ہی اپنے آفس کا دروازہ عوام الناس وسائلین کے لیے بند کروا دیتے ہیں ، خادم اعلیٰ پنجاب کو چاہیے عوام کی پر زور اپیل پر عصر حاضر کے مطابق ڈاکٹر پرویز احمد خاں جسے ضلعی آفیسر تعینات کیا جائے ۔