Home » Article » وزیرعظم گیلانی کے لائق تحسین اقدامات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: سجاد احمد

وزیرعظم گیلانی کے لائق تحسین اقدامات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر: سجاد احمد

جمہوری حکومت تمام تر مشکلات کے باوجود قیادت کے اس معیار پر پورا اتری ہے جو قوموں کو ان کی منزل اور ساحل مراد تک پہنچانے کیلئے لازم ہوتا ہےٗ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے اب تک کے تمام فیصلوں اور کارکردگی سے ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک و قوم کی کھوئی ہوئی شناخت کی بحالی اوراس کو ہر قسم کے بحرانوں سے نجات دلانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ قومی معاملات پر ان کا موقف ہمیشہ دوٹوک ہوتا ہے۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل تھا جس کا اعلان وزیراعظم نے قوم سے اپنے مختصر خطاب کے ذریعے کرنا ضروری سمجھاٗ انہوں نے ملکی سلامتی کے حوالے سے صورتحال پر روشنی ڈالی اور اس اقدام کی غرض و غایت سے آگاہ کیا۔دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ جس خطرناک مرحلے پرہے اس حوالے سے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قوم جن اندیشوں اور وسوسوں میں گھری ہوئی تھی جمہوری حکومت نے بروقت فیصلے سے قوم کو ان سے نجات دلا دی ہےٗ جنرل اشفاق پرویز کیانی ایک ایسے پیشہ ور سپاہی ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے نہ صرف پاک فوج کوکامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ انہیںجمہوریت کے تحفظ کیلئے خدمات پر ملک اور بیرون ملک بھی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہےٗ اس مرحلے پر قیادت کی تبدیلی پاکستان اور عالمی امن کیلئے سخت نقصان دہ ہوسکتی تھی۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی دوراندیشی اور سیاسی بصیرت کے باعث اس خطرے کو قبل از وقت بھانپ کر پیش بندی کیلئے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ مشاورت کے بعد عسکری قیادت کے موجودہ تسلسل کو برقرار رکھنے کا اعلان کردیاٗ جہاں پوری قوم نے جمہوری حکومت کے اس فیصلے کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا وہاں دہشت گرد عناصر کیلئے بھی یہ ایک واضح پیغام تھا کہ ان کے مکمل خاتمے تک قومی جنگ میں کسی مرحلے پر حکومت اپنے عزم سے پیچھے ہٹے گی نہ کسی کو یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستان کے خلوص پر شک ظاہر کرسکے۔وزیراعظم نے سہالہ میں پاکستان بیت المال کے زیراہتمام یتیم اور بے سہارا بچوں کیلئے قائم سویٹ ہوم کے دورہ کے موقع پر خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کے علاوہ کئی دیگر معاملات پر چہ میگوئیوں کا بڑا مسکت جواب دیاٗ ان کا کہنا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع بیرونی دباؤ پر نہیں کی گئی کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگٗ پالیسیوں میں تسلسل اور خطہ میں استحکام کیلئے توسیع ناگزیر تھیٗ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت نازک دور سے گزر رہا ہے اور ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ صدر مملکتٗ وزیراعظمٗ آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مدت ملازمت 2013ء تک ہے اور اب وہ محفوظ پوزیشن میں ہیںٗ اب سب کو آئین کے دائرہ میں رہ کر کام کرنا چاہئے ۔ وزیراعظم نے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے متعلق میڈیا کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا کہ ابھی صرف لیٹر آف انڈر سٹینڈنگ پر دستخط ہوئے ہیںٗ حتمی معاہدہ نہیں ہواٗ وزیرخزانہٗ وزیر تجارت اور وزیر خارجہ کو انہوں نے ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے میڈیاٗ سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کو صحیح صورتحال سے آگاہ کریں تاکہ اس حوالہ سے پائی جانے والی غلط فہمی دور ہوسکے۔ وزیراعظم نے جعلی ڈگری والے ارکان کی خود سے منسوب حمایت اور دفاع کے حوالے سے پھیلائے جانے والے تاثر کو سختی سے مسترد کردیاٗ ان کا کہنا تھا کہ کچھ فیصلے وزارت تعلیم اورکچھ ہائیرایجوکیشن کمیشن نے کرنے ہیںٗ دونوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قواعد و ضوابط کی پابندی کریںٗ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ لطیف کھوسہ کو میں نے ہی مقرر کیا وہ میرے مشیر ہیں انہیں اس عہدہ سے نہیں ہٹایا گیا اس سلسلہ میں غلط فہمی دور ہونا چاہئے۔ وفاقی وزیر ہاؤسنگ و تعمیرات کے خلاف عائد کئے جانے والے الزامات کے بارے میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ الزامات تو صرف الزامات ہوتے ہیں اگر کوئی ثبوت ہیں تو سامنے لائے جانے چاہئیں۔موجودہ جمہوری حکومت نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ عسکریت پسندی و دہشت گردی کی وجہ سے بے گھر ہونے والے یتیم اور بے سہارا بچوں کیلئے ملک بھر میں سویٹ ہومز تعمیر کئے جائیں گےٗ یہ وعدہ بھی پورا ہوچکا ہےٗ ایک سال کی مختصر مدت میں پندرہ سویٹ ہومز بن چکے ہیں اور دوسرے بھی تکمیل کے مراحل میں ہیںٗ سواتٗ وزیرستانٗ اسلام آبادٗ راولپنڈی اور ڈیرہ بگٹی سے تعلق رکھنے والے بچوں کو ان سویٹ ہومز میں رکھا گیا ہےٗ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مخیر حضرات کو یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت کیلئے آگے آنا چاہئےٗ ان کی تعلیمٗ دیکھ بھال اور فلاح و بہبود کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ یہ بچے دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگ سکیںٗ یہ بات لائق تحسین ہے کہ حکومت یتیم بچوں کی رجسٹریشن اور انہیں دہشت گردوں سے محفوظ رکھنے کیلئے قانون سازی کرے گیٗ نظام میں تبدیلی لانے کیلئے حکومت کے عزم کا انداہ نوجوانوں پر مشتمل ملک کی اکثریتی آبادی کو فنی تعلیم کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنانے اور جیلوں میں قید بچوں کی تعلیم کیلئے بہتر حکمت عملی وضع کرنے کے اقدامات سے لگایا جاسکتا ہے۔ایک ایسی جمہوری حکومت جو بروقت فیصلوں کے ذریعے ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کیلئے مصروف عمل ہو اسے نان ایشوز میں الجھاناٗ اسکے خلاف غلط فہمیاں اور افواہیں پھیلانا عوام کو جمہوریت سے بدظن کرنے کی شازش ہے تاکہ ملک کو انتہا پسندی اور دہشت گردی کے جال سے نکالنے کی حکومتی کوششوں کو ناکام بنا کر عوام کو غربتٗ جہالتٗ بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا رکھا جاسکےٗ یہ ایجنڈا لے کر آگے بڑھنے والے عناصر کا مقصد پاکستان اور عالمی امن کی تباہی کے سوا کچھ نہیں تاہم جمہوری حکومت عوام کی حمایت سے انہیں شکست دے کر پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں یقینا کامیاب و کامران ہوگی۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے اقدام اور دیگر معاملات بارے وزیراعظم کے خیالات یہ واضح کرنے کیلئے کافی ہیں کہ قومی امور پر ان کی گرفت مضبوط اور کارکردگی موثر ہےٗ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ صدر مملکتٗ پارلیمنٹ اور حکومت اپنی اپنی آئینی مدت پوری کریں گےٗ مڈ ٹرم الیکشن کا خواب دیکھنے والوں کو ناکامی ہوگی۔