Home » Article » وزیراعظم گیلانی کے فکر انگیز خیالات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :محمود خالد چوہدری

وزیراعظم گیلانی کے فکر انگیز خیالات۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر :محمود خالد چوہدری

بین الاقوامی حالات پر نگاہ رکھنے والے اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان اور افغانستان، اپنی تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔یہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سرخیل دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان ممالک کے عوام اپنے جان و مال کی قربانی دے کر دنیا بھر کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ دہشت گردوں نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے افغانستان اور پاکستان کو اپنا ہدف بنا رکھا ہے چنانچہ حالات کا تقاضا ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ اس تناظر میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے حالیہ دورہ پاکستان کو عالمی سفارتی حلقوں میں بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ اسلام آباد میں افغان صدر حامد کرزئی کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں استحکام ، قیام امن اور تعمیر نو کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، دہشتگردی اور انتہا پسندی سے دونوں ممالک کو بہت نقصان ہواہے، خطے سے اس لعنت کے خاتمے کیلئے پر عزم ہیں، پاکستان میں سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، عالمی برادری اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مدد کرے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ خطے میں امن اور خوشحالی کیلئے پاکستان اور ا فغانستان کے مفادات مشترک ہیں، پختہ یقین ہے کہ بہادر پاکستانی قوم سیلاب کے بحران پر قابوپانے میں کامیاب ہو گی۔ ہمارے لئے افغانستان میں اتحاد ، خودمختاری اورعلاقائی سالمیت بہت اہمیت کی حامل ہے اور ہم افغانستان میں استحکام، امن اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔ دونوں ممالک دوستی اور بھائی چارے کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور ہمارے چیلنجز،خواہشات ، مستقبل اور تقدیر مشترک ہیں۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ افغان صدر سے ملاقات ایسے وقت میں ہورہی ہے جب پاکستان کو تباہ کن سیلاب کا سامنا ہے اور سیلاب سے 2 کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی زندگی اور املاک متاثر ہوئی ہیں۔ بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ارب ڈالر کی فصلیں اور مال مویشی ختم ہوگئے ہیں۔ پانی سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کی وجہ سے 35 لاکھ سے زائد بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، سیلاب سے پیدا ہونے والے چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، ہمیں تعمیر نو اور بحالی کا بڑا کام ابھی کرنا ہے اور اس چیلنج پر قابو پانے کیلئے عالمی برادری کی مسلسل امداد کی ضرورت ہے۔پاکستان کے عوام افغانستان کی طرف سے 10 لاکھ ڈالر امدادی سرگرمیوں کیلئے چار ہیلی کاپٹر، چار ٹن ادویات اور ایک میڈیکل ٹیم بھجوانے سمیت افغانستان کی فراخدلانہ امداد پر اس کے ممنون ہیں اور یہ جذبہ ہمیں یاد رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کو دہشتگردی اور انتہاپسندی سے شدید نقصان ہوا ہے لیکن ہم نے خطے سے اس لعنت کے خاتمے کا پختہ عزم کررکھا ہے۔ پاکستان افغانستان میں استحکام، امن اورقومی مفاہمت کیلئے صدر حامد کرزئی کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔افغان امن جرگے اور کابل کانفرنس کا انعقاد ایک نئے دور کے آغاز کیلئے حکومت کی سنجیدہ اور اہم کوششوں کا واضح ثبوت ہیں۔ افغانستان کے عوام نے ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے، ضرورت پڑی تو پاکستان ان کی مدد کیلئے تیار ہے۔ پاکستان کی جمہوری حکومت نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ ہمیں اپنے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں پر پہنچانے اور مشترکہ خوشحالی کے مقصد کے حصول کیلئے شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود پاکستان نے افغانستان کی تعمیر نو میں کردارادا کیا ہے اور ہم نے افغان بھائیوں کی ہر طرح کی مدد کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ مشترکہ دین، مشترکہ تاریخ اور جغرافیائی محل وقوع ، امن اور ترقی کیلئے مل کر کوششیں کرنے کا ہمیں پابند بناتی ہیں۔ ہمارا دو طرفہ 2 ارب کا تجارتی حجم ہماری استعداد سے مطابقت نہیں رکھتا اور 2015ء تک اسے 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کیلئے مل کر کوششیں کی جائیں گی۔ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کیلئے مذاکرات کا نتیجہ قابل اطمینان ہے۔ پاکستان افغان حکومت کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن ، استحکام اور ترقی کیلئے اقدامات جاری رکھے گا۔دریں اثناء اسلام آباد میںبلوچستان کے وزیراعلی نواب محمد اسلم رئیسانی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بلوچستان میں سوات طرز کا کوئی آپریشن نہیں ہو گا، صوبہ کی ترقی کا ملک کی ترقی اور خوشحالی سے براہ راست تعلق ہے، بلوچستان اپنے اہم محل وقوع کی وجہ سے اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے جس سے صوبہ کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ آغاز حقوق بلوچستان صوبہ کی تیز رفتار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے اور اس سے بلوچستان کے عوام کی مشکلات کم کرنے، عدم مساوات کے خاتمہ اور صوبہ کو ملک کے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے میں راہ ہموار ہوگی۔ 18ویں ترمیمی بل کی منظوری پاکستان کے منتخب عوامی نمائندوں کی ایک عظیم کامیابی ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے ذریعہ صوبوں کو اضافی وسائل فراہم کئے گئے ہیں جو عوام کی فلاح و بہبود کیلئے استعمال ہوں گے۔ انہوں نے وزیراعلی بلوچستان کو یقین دلایا کہ جی ڈی اے بزنس پلان کی باقی رقم بھی بلوچستان حکومت کو جلد فراہم کر دی جائے گی جبکہ وفاقی حکومت پہلے ہی 5 ارب روپے جاری کر چکی ہے۔ اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیلاب کی تباہ کاریوں کو کرہ ارض پر سب سے بڑی تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کے نقصانات کے باوجود حکومت معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھے گی۔ متاثرین کو جلد سے جلد اپنے گھروں میں واپس بھجوانے کیلئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف غیر ملکی امدادی پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ اپنے وسائل بھی پیدا کر رہے ہیں، مشترکہ مفادات کونسل کے حالیہ اجلاس میں بجٹ کی ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنے کا فیصلہ کیا گیا، وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں نے بھی اخراجات کو گزشتہ سال کی سطح پر منجمد کر دیا ہے جبکہ پی ایس ڈی پی کے فنڈز متاثرین کی بحالی کیلئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ متاثرین کیلئے جو بھی امداد ملے گی وہ شفاف طریقے سے خرچ کی جائے گی، اب تک وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ کیلئے 4 ارب 32 کروڑ روپے مل چکے ہیں جبکہ ایس ایم ایس کے ذریعے ایک کروڑ روپے دیئے گئے، اسی طرح میڈیا کے ادارے بھی امدادی کوششوں میں حصہ لے رہے ہیں۔پاکستان دہشتگردی اور انتہاء پسندی کے خلاف پرعزم ہے اور ان مشکلات کے باوجود معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد جاری رکھے گا۔سیلاب کے باوجود ملک میں خوراک کی کافی مقدار موجود ہے اور خوراک کی قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہیں جبکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ملکر نقصانات کا سروے کیا جا رہا ہے تاکہ قابل اعتماد اعداد و شمار حاصل ہو سکیں۔ پاکستان کو کئی ارب ڈالرز کی قلت کا سامنا ہے اور ہم جی ایس ٹی اصلاحات کے ذریعے اضافی فنڈز جمع کریں گے۔وزیراعظم گیلانی نے جن خیالا ت کا اظہار کیا ہے ، ان کو مبصرین نے انتہائی فکر انگیز قرار دیتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ان سے ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل میں بجا طور پر مدد میسر آ سکتی ہے ۔ حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی اور فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا جائے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لئے اتحاد اور اعتماد سے کام لیا جائے جن میں سیلاب اور دہشت گردی بلاشبہ سر فہرست ہیں ۔ اس وقت ساری دنیا سیلاب کی تباہ کاریوں سے باخبر اور آگاہ ہے چنانچہ آزمائش کی اس گھڑی کو ایک ایسے موقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے جو مستقبل میں ملک و قوم کے وقار اور تشخص کو اجاگر کر سکے ۔