Home » Article » چیف صاحب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:شمسہ گوہرایڈووکیٹ

چیف صاحب۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تحریر:شمسہ گوہرایڈووکیٹ

اس وقت میں ڈی سی واشنگٹن کے ہوٹل کلب کوارٹرزکے کمرہ نمبر517میں بیٹھ کراپنے وطن کویادکررہی ہوں۔گزشتہ روزہماری اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ تفصیلی میٹنگ ہوئی تھی اورآج ہم ینگ پارلیمینٹرینزکی ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ آف امریکہ سے میٹنگ طے ہے۔میں اپنی دوست ایم پی اے انیلااخترچوہدری سے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہونے والی بریفنگ پربات چیت کرہی تھی کہ اچانک مجھے یادآیاکہ میں نے کالم باعنوان ،،میٹھامیٹھاہپ کڑواکڑواتھو،،میںقارئین سے وعدہ کیاتھاکہ میں آئندہ آنے والے دنوں میں ایئرپورٹ سیکورٹی فورس کے افسران کی کرپشن کے بارے میں قاآپ کوآگاہ کرونگی۔قارئین سے میراوعدہ اگرچہ پراناہوچکاہے لیکن اس یادنے مجھے کالم تحریرکرنے پرمجبورکردیا۔ایئرپورٹس سیکورٹی فورس لاہورکے چیف سیکورٹی افسرفرحت کیانی صاحب ہیں اوراے ایس ایف کاعملہ انہیں چیف صاحب کے نام سے پکارتاہے لہذاچونکہ وہ میرے کالم کامحورہیںاس لئے کالم کاعنوان بھی میں نے چیف صاحب رکھاہے۔جوکہ یقیناایک سے زائدکالموں پرمشتمل ہوگا۔گزشتہ برس کے اوائل میں ڈپٹی ڈائریکٹرایئرپورٹس سیکورٹی فورس لاہورایئرپورٹ محترم انورقریشی چیف صاحب کی اجازت سے لاہورایئرپورٹ پراپنے ایک دوست منورحسین کے ہمراہ تھائی ایئرلائن کی فلائٹ پراپنے مہمان کو رسیوکرنے آئے جنہیں وہ نہ جانتے تھے اورنہ ہی پہچانتے تھے۔البتہ انہیں ایک پہچان یہ بتائی گئی تھی کہ اس نے سرخ رنگ کی قمیض پہنی ہوگی۔فلائٹ کے Arrivalکے فوراًبعدانورقریشی اوران کادوست منورحسین ایئرپورٹ کے ممنوعہ علاقہ انٹرنیشنلArrivalمیں جاکربڑی مشکل سے مہمان کوتلاش کرلیتے ہیں۔مہمان کاجب سامان Arrivalمیں کسٹم حکام کی سکیننگ مشین میں رکھاگیاتوپتہ چلاکہ تمام سامان موبائل فونزپرمشتمل ہے اس موقع پر انورقریشی نے کسٹم حکام کی منت سماجت کی لیکن وہ اتنی بڑی کھیپ کوکلیئرکرنے کے لئے تیارنہ ہوئے۔ حالات کی نظاقت کے پیش نظرانورقریشی اپنے دوست منورحسین کے ہمراہ موقع سے فرارہوگئے۔کسٹم حکام نے مذکورہ مسافرکوفوراًگرفتارکرلیااورسمگل شدہ موبائلزکی قیمت (سینتیس لاکھ روپے)مقررکی۔انورقریشی کی سمگلنگ کے واقعہ میں Involveہونے کی وجہ سے مذکورہ واقعہ کی اخبارات میں بھرپورتشہیرکی گئی۔ڈائریکٹرجنرل ایئرپورٹس سیکورٹی فورس نے سمگلنگ کے اس واقعہ پرکوٹ آف انکوائری مقررکی جوکہ مندرجہ ذیل افسران پرمشتمل تھی۔
۱۔میجرطاہر ڈپٹی ڈائریکٹر(پریزیڈنٹ)
۲۔ایس ایف 552اسسٹنٹ ڈائریکٹرعبدالرحمٰن (ممبرنمبر1)
۳۔ایس ایف 897ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹرایم اسلم شاد(ممبرنمبر2)
کورٹ نے تمام گواہان اورسی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعدمتفقہ طورپریہ رائے دی کہ انورقریشی براہ راست موبائلزسمگلنگ میں ملوث ہے لہذااس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔تاہم جب یہ رپورٹ چیف صاحب کے پاس پہنچی تووہ رپورٹ پڑھنے کے بعدپسینے سے شرابورہوگئے۔انہوں نے کورٹ سے اپنے عہدے کی طاقت کاناجائزاستعمال کرتے ہوئے کورٹ آف انکوائری کی Opinionکے پیرانمبر2کوحدف کرنے کاحکم دیاجوکہ تینوں افسران کونہ چاہتے ہوئے بھی کیا۔میں آج حدف شدہ پیرے کوas it isپیش کررہی ہوں تاکہ آپ لوگوںکوعلم ہوسکے کہ سرکاری افسران کس طرح اپنے ماتحتوں کواستعمال کرتے ہوئے انکوائریوں میں کیسے من مانیاں کروالیتے ہیں۔
2. Mr. Munawar Hussain has provided his old residential address in his statement. His new residential address according to ISP Chart of his wife Guard R.Khanam is House No. 286, Block-C-Maraghzar Scheme, Multan Road, Lahore
Pmضبط کی گئیں۔ اتنے بڑے اہم واقعے کی اطلاع چیف صاحب کونہ ہوسکی حالانکہ اے ایس ایف پولیس کاعملہ جوکہ اس بات کاپابند ہے کہ وہ ڈیوٹی پراے ایس ایف کے سٹاف پرنظررکھیں اوراگروہ کسی غیرقانونی ،غیراخلاقی سرگرمی میں ملوث ہوتواس کی اطلاع فوری طورپرچیف صاحب کو دی جائے۔مجھے افسوس کے ساتھ لکھناپڑرہاہے کہ چیف صاحب نے اے ایس ایف پولیس کے عملے کو اپنی اصل ڈیوٹی سے ہٹاکراپنے مہمانوں کی پروٹوکال اورذاتی کاموں پرلگادیاہے۔تاہم اس واقعہ کی رپورٹ کسی نہ کسی طریقے سے ڈائریکٹرجنرل اے ایس ایف کوہوگئی تھی۔FIUکے عملے کاکام بھی تقریباًASFپولیس جیساہے۔جبFIUکاانچارج ایسے گھناؤنے واقع میں ملوث ہوگاتودوسرے عملہ کی کیاحالت ہوگی۔ایئرپورٹ پرFIUکاعملہ مادرپدرآزادہوتاہے۔ASFکاعملہFIUاورASFپولیس سے ہروقت خوفزدہ ہوکرڈیوٹی کرتاہے۔کرپشن کے ان دونوں واقعات میں اے ایس ایف کے افسران براہ راست ملوث تھے لیکن ان کے خلاف جوکارروائی کی گئی وہ صرف اورصرف وارننگ تک محدودتھی اگریہی واقعہ کوئی جونیئرسٹاف کرتاتواسے کم ازکم سزانوکری سے Dismissہوتی۔اے ایس ایف میں آرمی ایکٹ رائج ہے اوراس کے ذریعے کسی افسرکوسزادیناانتہائی مشکل کام ہے جب کوئی جونیئرکوجیل بھیجنابھی چیف صاحب جیسے افسرکیلئے بے حد آسان کام ہے اورکوئی اس سے جواب طلبی نہیں کرسکتااورنہ ہی کسی عدالت کادروازہ کھٹکھٹاسکتاہے۔کالم کاپہلاحصہ میں یہیں ختم کررہی ہوں اوردوسرے حصے میں آپ کوچیف صاحب کے متعلق چونکادینے والے انکشافات کرونگی ۔